سیاحتی مقامات پر عدم تحفظ ٹورازم کیلئے مشکلات پیدا کر رہا ہے: لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ سیاحتی مقامات پر عدم تحفظ ٹورازم کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
نجی ٹی وی دنیا نیوزکے مطابق لاہور سے جاری بیان میں لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ دریائے سوات میں سیاحوں کے ڈوبنے سے پوری قوم صدمے میں ہے، وفاق اور صوبوں میں آئی ایم ایف کی ظالمانہ شرائط والے بجٹ مسلط کر دیئے گئے۔
لیاقت بلوچ نے مزید کہا ہے کہ مخصوص نشستوں پر فیصلہ عدلیہ اور پارلیمنٹ پر منفی اثرات لائے گا، سیاسی بحرانوں میں اسٹیبلشمنٹ اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے، ملی یکجہتی کونسل محرم الحرام کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔
سندھ طاس معاہدہ: عالمی عدالت کے فیصلہ سے پاکستانی مؤقف کو تقویت ملی، وزیراعظم
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔