متاثرین سیلاب کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
نیویارک:
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، ریلیف اور بحالی کی کارروائیاں تیز کی جائیں۔
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات کی لپیٹ میں پاکستانیوں کی آواز دنیا تک پہنچائی، پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک موسمیاتی تبدیلی سے آنے والی قدرتی آفات سے مسلسل متاثر ہو رہا ہے۔
نیویارک میں جنرل اسمبلی سے خطاب کے فوری بعد ملک میں حالیہ سیلابی صورتحال اور بحالی کے جاری اقدامات کے حوالے سے ویڈیو لنک پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو امداد و بحالی کے آپریشنز کی کڑی نگرانی اور اس حوالے سے باقاعدگی سے جائزہ اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو صوبوں اور پی ڈی ایم ایز کو مکمل تعاون فراہم کرنے اور ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے تخمینے کو مکمل کرنے کا حکم دیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب کے بعد فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ امدادی کارروائیوں و بحالی کیلئے جامع منصوبہ بندی میں آسانی ہو۔
انہوں نے موٹروے ایم 5 کے دریائے ستلج میں سیلاب سے متاثرہ حصے کی بحالی کیلئے این ایچ اے کو اقدامات تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ موٹروے پر جلال پور پیر والا کے مقام پر پڑنے والے شگاف کی فوری مرمت کی جائے، سیکرٹری مواصلات اور چیئرمین این ایچ ایفوری طور پر متاثرہ حصے پر پہنچ کر نقصان کا جائزہ لیں۔
پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچاؤ کے حوالے سے تمام تر ضروری اقدامات کئے جائیں، سیلاب زدہ علاقوں میں موزوں فصلوں کی کاشت کیلئے بھی خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تقریباً ساڑھے تین لاکھ متاثرہ لوگ امدادی کیمپس و خیمہ بستیوں سے واپس اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے آئندہ ایک ہفتے میں نقصانات کے جائزے پر ایک جامع رپورٹ مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے ویڈیو لنک کے ذریعے پاکستان اور ملائیشیا کے مابین تجارت کے فروغ کے حوالے سے اجلاس کی صدارت بھی کی۔
شہباز شریف نے کہا ملائیشیا نے پاکستان کا ہر مصیبت میں ساتھ دیا جس کو پاکستان قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،پاک ملائیشیا تجارت کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، پاکستانی بیف کی ملائیشیا میں برآمد کیلئے متعلقہ ادارے قابل عمل و ٹھوس لائحہ عمل تشکیل دیں۔
بعدازاں وزیراعظم نیویارک سے جنیوا پہنچے اور ن لیگ کے صدر نواز شریف سے ملاقات کرکے ان کی عیادت کی اور خیریت دریافت کی۔
وزیراعظم نے نواز شریف کو امریکہ کے دورے اور ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے متعلق آگاہ بھی کیا۔ شہبازشریف بعد میں لندن پہنچ گئے جہاں وہ تین دن قیام کے بعد پاکستان روانہ ہونگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے حوالے سے
پڑھیں:
فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔
مزید :