سیلاب متاثرین کےلئے ریلیف اور بحالی کی کارروائیاں تیز کی جائیں. شہبازشریف
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔27 ستمبر ۔2025 )وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کےلئے ریلیف اور بحالی کی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، متاثرہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا ہنگامی بنیادوں پر تخمینہ مکمل کیا جائے اور ایک ہفتے میں جامع رپورٹ پیش کی جائے.
(جاری ہے)
وزیر اعظم ہاﺅس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کے فوری بعد ملک میں حالیہ سیلابی صورتحال اوربحالی کے جاری اقدامات پر زوم پر جائزہ اجلاس طلب کیا اور سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف اور بحالی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات کی لپیٹ میں پاکستانیوں کی آواز دنیا تک پہنچائی، پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک موسمیاتی تبدیلی سے آنے والی قدرتی آفات سے مسلسل متاثر ہو رہا ہے. انہوں نے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو امداد و بحالی کے آپریشنز کی کڑی نگرانی اور اس حوالے سے باقاعدگی سے جائزہ اجلاس بلانے کی ہدایت کر دی وزیراعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو صوبوں اور پی ڈی ایم ایز کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی، انہوں نے ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے تخمینے کو مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی. شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب کے بعد فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ امدادی کاروائیوں و بحالی کیلئے جامع منصوبہ بندی میں آسانی ہو، ایم-5 کے دریائے ستلج میں سیلاب سے متاثرہ حصے کی بحالی کیلئے این ایچ اے اقدامات تیز کرے وزیراعظم کی سیکرٹری مواصلات اور چیئرمین این ایچ اے کو فوری طور پر ایم-5 کے متاثرہ حصے پر پہنچ کر نقصان کے جائزے کی ہدایت کی ، اس موقع پر پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچا ﺅکے حوالے سے تمام تر ضروری اقدامات کرنے کے احکامات بھی جاری کیے. وزیراعظم شہبازشریف نے جائزہ اجلاس میں حکم دیا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں موزوں فصلوں کی کاشت کےلئے بھی خصوصی اقدامات کیے جائیں وزیراعظم نے ویڈیو لنک کے ذریعے سیلابی صورتحال اور جاری امدادی کاروائیوں و بحالی کے اقدامات پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں گلگت بلتستان و آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریوں نے بھی شرکت کی. چیئرمین این ڈی ایم نے وزیراعظم کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال اور بحالی کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی، بتایا گیا کہ تقریبا ساڑھے تین لاکھ متاثرہ لوگ امدادی کیمپس و خیمہ بستیوں سے واپس اپنے گھروں کو جا چکے ہیں، سندھ میں اس وقت کچھ کیمپس میں لوگ مقیم ہیں، سیلابی پانی تیزی سے اتر رہا ہے جس کے بعد جلد ان لوگوں کی بھی اپنے گھروں میں واپسی ہوجائے گی اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت پنجاب متاثرین کی بحالی کیلئے مثالی اقدامات کر رہی ہے، اجلاس کو فصلوں کے نقصانات اور کسانوں کی بحالی کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کی گئیں وزیر اعظم نے آئندہ ایک ہفتے میں نقصانات کے جائزے پر ایک جامع رپورٹ طلب کر لی.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جائزہ اجلاس علاقوں میں اور بحالی بحالی کے بحالی کی کی بحالی کی ہدایت ہدایت کی کرنے کی
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔