امریکا پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تیار، وزیراعظم نے ٹرمپ سے ملاقات کو حوصلہ افزا قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کو مثبت اور حوصلہ افزا قرار دیا۔
نیو جرسی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ ملاقات میں معیشت، انسداد دہشت گردی، معدنیات، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، آئی ٹی اور کرپٹو کرنسی پر تفصیلی بات ہوئی۔ ان کے مطابق امریکا تجارت، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم نے ٹیرف کے معاملے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان معدنیات کی قیمت کا منصفانہ تعین ہوگا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے باہمی مفاد میں کیے جائیں گے۔
بھارت کے خلاف جنگ پر گفتگو
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 6 سے 10 مئی کے دوران پاکستانی افواج نے بہادری سے ہندوستان کو جنگ میں شکست دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ کی نصرت سے افواج پاکستان نے شاندار کامیابی حاصل کی جس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دانشمندی سے افواج پاکستان کی قیادت کی اور اسی دوران اعلان کیا کہ پاکستان نے جنگ جیت لی ہے۔ وزیراعظم کے مطابق “ہم نے ان کے سات طیارے مار گرائے، ہر محاذ پر حملے کیے، ان کا حوصلہ ٹوٹ گیا اور آخرکار وہ جنگ بندی پر مجبور ہوگئے۔”
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔