ادائیگیوں میں تاخیر، شرح نمو میں رکاوٹ
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
احادیث کی روشنی میں دیکھا جائے تو نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان کہ ’مزدور کی مزدوری اس کے پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو‘۔ یہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ معاشی نظم و ضبط کا ایک بنیادی اصول بھی ہے۔
یہ ہدایت واضح کرتی ہے کہ معاشرے میں پیسے کی گردش مسلسل رہنی چاہیے تاکہ مزدور، کاریگر اور کاروبار سب فعال رہیں اور معیشت میں جمود پیدا نہ ہو۔
معاشی نقطہ نظر سے بروقت ادائیگی اعتماد پیدا کرتی ہے، جب کاروباری ادارے اور افراد بروقت ادائیگی کرتے ہیں تو پوری سپلائی چین متحرک رہتی ہے۔ اگر ادائیگیاں رک جائیں تو کاروباری چین ٹوٹ جاتی ہے، مزدور اور چھوٹے کاروبار سب سے پہلے نقصان اٹھاتے ہیں، اور بتدریج معیشت کی ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اس اصول کو سمجھا اور اسے معاشی پالیسی کا حصہ بنایا۔ امریکہ میں Prompt Payment Act نافذ ہے، جو سرکاری اداروں کو پابند کرتا ہے کہ وہ سپلائرز کو مقررہ وقت میں ادائیگی کریں، ورنہ تاخیر پر خودکار طور پر سود اور جرمانہ لاگو ہوتا ہے۔
یورپی یونین میں Late Payment Directive کے تحت نجی اداروں کو زیادہ سے زیادہ 30 دن اور سرکاری اداروں کو 60 دن میں ادائیگی کرنی لازمی ہے، بصورت دیگر جرمانہ اور سود ادا کرنا پڑتا ہے۔
چین میں حکومت اور بڑی کمپنیاں چھوٹے کاروباروں کو مقررہ وقت پر ادائیگی کرنے کی پابند ہیں، تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار مالی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔
جاپان میں بھی کاروباری روایت یہی ہے کہ سپلائر کو وقت پر ادائیگی کی جائے، کیونکہ تاخیر معیشت کے استحکام اور تسلسل میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔
معاشی اصطلاح میں جب ادائیگی تاخیر کا شکار ہو تو اسے کیش فلو ڈس رپشن (Cash Flow Disruption) کہا جاتا ہے، جو اکثر ڈومینو ایفیکٹ (Domino Effect) پیدا کر دیتی ہے، یعنی ایک تاخیر پوری کاروباری چین میں مالی مشکلات پیدا کرتی ہے۔
کینزیئن اکنامکس کے مطابق معیشت میں مؤثر طلب (Effective Demand) ترقی کو آگے بڑھاتی ہے، جب ادائیگیاں رک جاتی ہیں تو خریدار کم ہو جاتے ہیں اور طلب میں کمی آتی ہے، جس سے کاروبار متاثر ہوتا ہے اور ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف بڑی معیشتوں یا کارپوریٹ سیکٹر تک محدود نہیں، بلکہ عام آدمی کی زندگی پر بھی اس کے براہ راست اثرات پڑتے ہیں۔ اگر کسی ملازم کو تنخواہ وقت پر نہ ملے تو وہ کرایہ بروقت ادا نہیں کر پاتا، جس سے مکان مالک متاثر ہوتا ہے۔
اسی طرح وہ راشن اور دیگر ضروریات کی خریداری مؤخر کرتا ہے، جس سے کریانہ فروش اور چھوٹے دکاندار کی فروخت پر اثر پڑتا ہے۔ یہی اصول بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں میں بھی لاگو ہوتا ہے، جہاں فنڈز کی تاخیر منصوبوں کو تعطل کا شکار کرتی ہے اور ان کے اخراجات میں اضافہ کر دیتی ہے۔
پاکستان میں بروقت ادائیگیوں کے نظام کا فقدان معاشی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے، لیکن شاید اس بات کا کہیں ادراک نہیں، سرکاری دفاتر میں ادائیگی کی فائلوں کی نقل و حرکت کا کوئی جدید اور شفاف نظام موجود نہیں۔ ایک ہی دفتر میں فائل 2 یا 3 شعبوں کے درمیان گھومتے ہوئے وقت کھا جاتی ہے اور کسی فائل کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے.
اس صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کو بروقت ادائیگی کے نظام کو ترجیح دینا ہو گی سخت قانون سازی، ڈیجیٹل فائل ٹریکنگ سسٹم، اور ادارہ جاتی جوابدہی ناگزیر ہیں ترکی کی مثال اس حوالے سے قابلِ تقلید ہے جہاں e-Government Gateway نظام کے تحت سرکاری فائلوں اور ادائیگیوں کو آن لائن مانیٹر کیا جاتا ہے اور شفافیت قائم کی جاتی ہے اور تاخیر کو روکا جاتا ہے۔
پاکستان اگر اسی طرز پر جدید نظام قائم کرے تو سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان اعتماد بڑھے گا، منصوبے بروقت مکمل ہوں گے، عام آدمی کو وقت پر پیسے ملیں گے اور معیشت میں پیسے کی روانی بہتر ہو کر عام آدمی تک خوشحالی پہنچا سکتی ہے۔
پاکستان میں سرکاری منصوبوں میں فنڈز کی تاخیر عام ہے۔ ٹھیکیداروں کو کئی کئی ماہ بعد ادائیگیاں ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے منصوبے تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ نجی شعبے میں بھی بہت سے چھوٹے کاروبار بڑی کمپنیوں سے کریڈٹ پر سامان لیتے ہیں، لیکن ادائیگی میں تاخیر کرتے ہیں، جس سے بڑی کمپنیوں کے کیش فلو پر دباؤ بڑھتا ہے اور وہ اپنے ملازمین کو بروقت تنخواہیں دینے میں مشکل محسوس کرتی ہیں۔
سرکاری ادارے بھی غیر مستقل ملازمین کو واجبات کی ادائیگی میں تاخیر کرتے ہیں، جس سے معاشی سرگرمیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔
اگر موجودہ حکومت شرحِ ترقی میں حقیقی اضافہ چاہتی ہے تو بروقت ادائیگی کو معیشت کا ایک باضابطہ جزو بنانا ہو گا اور بروقت ادائیگی کا ایک ایسا قانون بنایا جائے، جس پر سختی سے عمل درآمد ہو اور جو سرکاری و نجی دونوں شعبوں کو پابند کرے کہ وہ طے شدہ مدت میں ادائیگی کریں، بصورت دیگر ان کی سرزنش ہو یہ قانون اور اس پر عمل درآمد نہ صرف کاروباری طبقے کا اعتماد بحال کرے گا، بلکہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے بھی مثبت پیغام دے گا۔ بروقت ادائیگی دراصل معیشت کو متحرک رکھنے اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کی سب سے اہم شرط ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بروقت ادائیگی میں ادائیگی جاتی ہے پیدا کر کرتی ہے کا شکار ہوتا ہے ہے اور
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔