امریکا نے غزہ جنگ کے خاتمے اور مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے 21 نکاتی منصوبہ پیش کر دیا ہے۔

اس منصوبے میں فوری طور پر یرغمالیوں کی رہائی، فلسطینیوں کو غزہ میں ہی رہنے کی ترغیب دینے اور پرامن حماس اراکین کو عام معافی دینے جیسے نکات شامل ہیں۔ یہ منصوبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر چند عرب اور مسلم ممالک کو پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ میں عبوری انتظامیہ کے لیے ٹونی بلیئر کا ممکنہ کردار، امریکی منصوبہ کیا ہے؟

امریکی تجویز میں غزہ کو ایک ’غیر انتہا پسند، دہشت گردی سے پاک زون‘ میں بدلنے، تعمیرِ نو، روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور بین الاقوامی نگرانی میں امداد کی تقسیم جیسے نکات شامل ہیں۔ منصوبے کے مطابق اسرائیل کو فوجی کارروائی روک کر بتدریج غزہ سے انخلا کرنا ہوگا جبکہ تمام یرغمالیوں کی واپسی کے بعد فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

منصوبے میں کہا گیا ہے کہ پرامن رہنے کا حلف لینے والے حماس کے کارکنان کو معافی دی جائے گی جبکہ چھوڑ کر جانے والوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔ غزہ کا انتظام فلسطینی ماہرین پر مشتمل ایک عبوری سیٹ اپ کے حوالے کیا جائے گا جس کی نگرانی امریکا، عرب اور یورپی شراکت داروں پر مشتمل کمیٹی کرے گی۔

امریکی تجویز کے تحت ایک اقتصادی زون قائم ہوگا، غزہ میں روزانہ کم از کم 600 ٹرک امداد بھیجی جائے گی اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کی جائے گی۔ ساتھ ہی ایک بین الاقوامی سیکیورٹی فورس غزہ میں تعینات کی جائے گی جو فلسطینی پولیس کو تربیت دے گی۔

منصوبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ کو ضم یا مستقل قبضے میں نہیں لے گا۔ مزید یہ کہ قطر کے کردار کو تسلیم کیا جائے گا اور دوحہ کو مستقبل میں حملوں کا نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا نے غزہ جنگ بندی قرارداد ویٹو کر دی، پاکستان اور حماس کا شدید ردعمل

امریکی حکام کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے تاہم اس حوالے سے کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی گئی۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران ایک بار پھر دو ریاستی حل کی مخالفت کی اور کہا کہ یروشلم کے قریب فلسطینی ریاست قائم کرنا ایسے ہے جیسے نائن الیون کے بعد نیویارک کے پاس القاعدہ کو ریاست دے دی جائے۔

اس کے باوجود سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ مذاکرات مثبت سمت میں جا رہے ہیں اور آئندہ دنوں میں کسی بڑے پیش رفت کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

21 نکاتی منصوبہ اسرائیل امریکا جنگ بندی غزہ فلسطین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 21 نکاتی منصوبہ اسرائیل امریکا فلسطین فلسطینی ریاست جائے گی

پڑھیں:

وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔

نجی ٹی وی چینل  جیو نیوز کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہوسکا، وفاقی بجٹ 8یا 12جون کو پیش کئے جانے کا امکان ہے۔

قومی اقتصادی کونسل کا 3جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا۔

یادرہے کہ اس سے قبل خیال کیا جارہا تھا کہ وفاقی بجٹ5جون کو پیش کیا جائے گا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد