پاکستان کا چین کو 220 ارب روپے سود کی ادائیگی سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
حکومت پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ چین کے تحت سی پیک میں بننے والے بجلی گھروں کو تاخیر سے ادائیگی پر 220 ارب روپے سود ادانہیں کرے گی اور اس سلسلے میں بیجنگ سے باقاعدہ چھوٹ طلب کرے گی۔
ذرائع کے مطابق توانائی ڈویڑن نے آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران پاور سیکٹرکی مالی اور عملی صورتحال پر بریفنگ دی۔
حکومت نے واضح کیاکہ وہ صرف 250 ارب روپے اصل واجبات تسلیم کرتی ہے،جبکہ سودکی مد میں واجب الادا رقم 220 ارب روپے کو تسلیم نہیں کیاجا رہا، یہ رقم 1.
چین اور پاکستان نے حالیہ مشترکہ تعاون کمیٹی (JCC) کی میٹنگ میں اس بات پر اتفاق کیا کہ سی پیک کے تحت توانائی منصوبوں کے نرخوں میں استحکام قائم رکھاجائیگا، تنازعات کو باہمی مشاورت سے حل کیاجائیگا اورکوئی بھی فریق یکطرفہ فیصلے نہیں کرے گا۔
توانائی ڈویژن کے ترجمان نے معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکارکرتے ہوئے کہاکہ اس وقت وزارتِ خزانہ ہی تبصروں کی مجاز ہے۔آئی ایم ایف نے مذاکرات کے دوران بجلی کی گھریلو طلب میں کمی، سرکلر ڈیٹ میں مسلسل اضافے اور سیلاب کے اثرات پر بھی سوالات اٹھائے۔
توانائی ڈویژن نے بتایاکہ مالی سال 2025-26 کے دوران مزید 500 ارب روپے سرکلر ڈیٹ میں شامل ہو سکتے ہیں، جسے ختم کرنے کیلیے وزارتِ خزانہ سے 540 ارب روپے کی بجٹ سبسڈی کی توقع ہے۔
اگرچہ گزشتہ مالی سال میں سرکلر ڈیٹ میں اضافہ صرف 45 ارب روپے رہا جو متوقع 340 ارب سے کم تھا، لیکن موجودہ مالی سال میں صورتحال دوبارہ بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے حکومت کی جانب سے پاور سیکٹرکی کارکردگی میں بہتری اور سرکلر ڈیٹ کے ذخیرے کو 2.42 کھرب سے کم کر کے 1.6 کھرب روپے کرنے کی کوششوں کو سراہا، مگر اس بہتری کو مستقل قرار دینے سے گریزکیا۔
ادھر حکومت نے گیس سیکٹر، جس پر 2.6 کھرب روپے کاسرکلر ڈیٹ ہے، اس کیلیے تاحال کوئی بجٹ فنڈز مختص نہیں کیے،جبکہ قطر ایل این جی معاہدے پر دوبارہ بات چیت کاعندیہ دیا ہے،کیونکہ ایل این جی بجلی گھر گیس نہیں اٹھا رہے،جس کے باعث فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف سرکلر ڈیٹ ارب روپے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ