توانائی شعبے کے گردشی قرضوں کے 1225 ارب روپے حل، حکومت کا بڑا سنگ میل
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
حکومت پاکستان نے توانائی کے شعبے میں 1225 ارب روپے کے گردشی قرضوں کے تاریخی حل کا اعلان کر دیا ہے، جسے مالیاتی نظم و ضبط اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کی جانب فیصلہ کن قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
تاریخی اشتراکی کوششیہ کارنامہ وزیر اعظم کے ٹاسک فورس برائے توانائی کی قیادت میں وزارت توانائی، وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور 18 بینکوں کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:ملکی قرضوں میں نمایاں اضافہ، ہر پاکستانی کتنا مقروض؟
اس موقع پر وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب، مشیر وزیراعظم برائے نجکاری محمد علی، نیشنل کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل محمد ظفر اقبال، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور دیگر اہم شخصیات نے فعال کردار ادا کیا۔
قرضوں کی ری اسٹرکچرنگمعاہدے کے تحت 660 ارب روپے کے موجودہ قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ اور 565 ارب روپے کی نئی فنانسنگ شامل ہے تاکہ بجلی پیدا کرنے والے اداروں کو واجبات کی ادائیگی کی جا سکے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں صارفین پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا کیونکہ ادائیگیاں پہلے سے عائد فی یونٹ 3.
اس معاہدے سے 660 ارب روپے کے خود مختار ضمانتی فنڈز (sovereign guarantees) بھی آزاد ہو گئے ہیں، جنہیں زرعی شعبے، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار، ہاؤسنگ، تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں میں استعمال کیا جائے گا۔
حکومت کا عزموزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اس کامیابی کو پاکستان کے توانائی شعبے کے دیرینہ مسائل کے حل اور مالی استحکام کے عزم کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارنامہ اجتماعی قیادت، تکنیکی مہارت، بین الادارہ جاتی ہم آہنگی اور پبلک پرائیویٹ تعاون کا مظہر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی پاکستان کے ڈھانچہ جاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے جدت، اتحاد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کی ایک نظیر پیش کرتی ہے اور حکومت کا یہ اقدام توانائی کے شعبے میں پائیداری کی راہ ہموار کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان توانائی حکومت پاکستان گردشی قرض
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان توانائی حکومت پاکستان ارب روپے
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا