میری سزائیں اور فیصلے پہلے سے لکھے ہوئے ہیں ،عمران خان
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
بار بار ہمارے کیس ملتوی کیے جاتے ہیں، اسکرپٹ یہ ہے توشہ خانہ میں سزا ہوگی پھر القادر میں ضمانت دیں گے،پہلے دن سے کہا جا رہا ہے آپ ملک چھوڑ کر چلے جائیں، سارے مقدمات کا سامنا کروں گا، بانی پی ٹی آئی
تیراہ میں آپریشن نہیں ہونا چاہیے،نوجوانوں کی شہادتوں پردکھ اورافسوس کا اظہار، آپریشنکیلئے حکومت خیبرپختونخوا کو ٹریپ کیا گیا ہے،عمران خان نے اپنے کے خلاف جاری مقدمات کے فیصلے فوری سنانے کا مطالبہ کردیا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ ان کو دی جانے والی سزائیں اور فیصلے پہلے سے لکھے گئے ہیں۔بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو پہلے دن سے کہا جا رہا ہے آپ ملک چھوڑ کر چلے جائیں لیکن انہوں نے کہا وہ سارے مقدمات کا سامنا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جیل ٹرائل کے اندر ایک گواہ جھوٹا ثابت ہوا ہے۔علیمہ خان نے بتایا کہ بانی نے کہا ہے کہ یہ سزائیں اور فیصلے پہلے سے لکھے گئے ہیں، بار بار ہمارے کیسز ملتوی کیے جاتے ہیں اور کل مشکل سے القادر کیس کی تاریخ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ القادر کیس میں بشریٰ بی بی کی فوری ضمانت ہونی چاہیے، اسکرپٹ یہ ہے توشہ خانہ میں سزا ہوگی پھر القادر میں ضمانت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ تیراہ میں نوجوانوں کی شہادتوں پر بانی بہت دکھی تھے، بانی نے کہا اسی لیے وہ کہہ رہے ہیں آپریشن نہیں ہونا چاہیے۔عمران خان نے کہا ہے کہ آپریشن کے لیے حکومت خیبرپختونخوا کو ٹریپ کیا گیا ہے، ملٹری آپریشنز سے دہشت گردی کم نہیں بلکہ مزید بڑھے گی۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں نفرتیں بڑھ رہی ہیں، افغانستان کو دھمکیاں دے کر افغانوں کو یہاں سے نکالا گیا، ہماری حکومت نے افغانستان سے بات کی اور امن قائم کیا اس لیے افغانستان جا کر ان سے بات چیت کرنی چاہیے تھی۔علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ امن کے لیے پاکستانی حکومت کو افغان حکومت اور دونوں ملکوں کے عوام کو اعتماد میں لینا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔