میئر کراچی نے گرین لائن پراجیکٹ پر سٹی وارڈنز بھیج کر کام بند کروادیا، ترجمان وفاقی حکومت
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان حکومت پاکستان برائے اطلاعات سندھ بیرسٹر راجا خلیق الزمان انصاری نے دعویٰ کیا کہ گرین لائن منصوبے پر جاری کام میئر کراچی نے سٹی وارڈنز بھیج کر رکوا دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ بہتر انداز میں آگے بڑھ رہا تھا اور اگر رکاوٹیں نہ آئیں تو جون 2026 تک مکمل ہوسکتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ گرین لائن کا دوسرا مرحلہ 2035 سے پہلے مکمل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے ساڑھے پانچ ارب روپے مختص کیے ہیں اور اس منصوبے کا دوسرا فیز “کامن کوریڈور” ہے جس پر مستقبل میں تمام بی آر ٹی بسیں چلیں گی۔
راجا خلیق الزمان انصاری نے کہا کہ گرین لائن وفاقی حکومت کا فنڈڈ منصوبہ ہے جس کا آغاز 2016 میں نواز شریف نے کیا تھا۔ 10 مارچ 2025 کو یہ سندھ حکومت کے حوالے کیا گیا اور اب روزانہ کے مسافروں کی تعداد 52 ہزار سے بڑھ کر 82 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاق کراچی کو معیاری ٹرانسپورٹ سہولت دینا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت اور میئر آفس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے درخواست کی کہ پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرتے ہوئے کراچی کی خدمت کے لیے مل جل کر آگے بڑھا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: گرین لائن
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔