افغان مہاجرین کی باعزت واپسی دونوں ممالک کے بہتر مفاد میں ہے، سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
افغان قونصل جنرل سے ملاقات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے انہیں یقین دلاتے ہوئے کہا کہ انتظامی افسران کو واضح ہدایت دیدی کہ انخلاء کے عمل میں ضعیف العمر افراد، خواتین اور بچوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ غیر ملکیوں کے انخلاء کی قومی پالیسی پر صوبائی حکومت عمل درآمد کروا رہی ہے۔ واپس جانے والے افغان مہاجرین کو صوبائی حکومت کی جانب سے مکمل معاونت دی جا رہی ہے۔ ضیف العمر افراد، خواتین اور بچوں کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ یہ بات انہوں نے افغانستان کے قائمقام قونصل جنرل مولوی محمد حبیب ناصر کی ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر بلوچستان سے افغان مہاجرین کے انخلاء پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہماری روایات انسانی ہمدردی اور احترام پر مبنی ہیں۔ افغان خواتین کو اپنی ماؤں اور بہنوں کی مانند سمجھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے افغان قونصل جنرل کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ انتظامی افسران کو واضح ہدایت دے دی کہ انخلاء کے عمل میں ضعیف العمر افراد، خواتین اور بچوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ مقامی سطح کے انتظامی مسائل کے حل اور فوری رابطہ کاری کے لئے حکومت بلوچستان نے سئنیر افسر کی بطور رابطہ کار تقرری کردی ہے۔ مہاجرین کی واپسی ایک تدریجی اور باعزت عمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ افغان مہاجرین کی باعزت واپسی دونوں ممالک کے بہتر مفاد میں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افغان مہاجرین سرفراز بگٹی کہا کہ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔