پاکستان میں اسٹار لنک کی سروسز شروع ہونے میں کتنا وقت درکار ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے جولائی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنی اسٹار لنک کو جلد پاکستان میں کام کرنے کا لائسنس جاری کر دیا جائے گا اور توقع ہے کہ یہ سروس نومبر یا دسمبر 2025 تک عوام کے لیے دستیاب ہو گی۔
تاہم، پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ (PSARB) اور دیگر متعلقہ اداروں کے مطابق اس سے پہلے اسٹار لنک کو تمام ضروری رجسٹریشن اور منظوری درکار ہیں۔ اگرچہ پی ایس اے آر بی نے کمپنی کو زمینی تنصیبات اور منصوبہ بندی کے لیے عارضی اجازت دی تھی، لیکن اب تک باقاعدہ این او سی جاری نہیں ہو سکا۔
مزید پڑھیں: اسٹار لنک کو لائسنس حاصل کرنے میں کیوں تاخیر ہو رہی ہے؟
پی ٹی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے وی نیوز کو بتایا کہ معاملہ فی الحال پی ایس اے آر بی کے زیر غور ہے۔ ان کے مطابق ریگولیشنز کا مسودہ تیار ہو چکا ہے لیکن ان کی باضابطہ اشاعت باقی ہے، اور انہی قواعد کے بعد سیٹلائٹ کمپنیوں کی رجسٹریشن اور لائسنسنگ ممکن ہو گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسٹار لنک کے ساتھ ساتھ چین کی کمپنی اسپیس سیل اور ایمیزون کائپر سمیت کئی دیگر ادارے بھی پاکستان میں دلچسپی رکھتے ہیں مگر سبھی ریگولیشنز کے اجرا کے منتظر ہیں۔
عہدیدار کے مطابق رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد کمپنی یا تو براہِ راست لائسنس حاصل کر سکتی ہے یا کسی پاکستانی شراکت دار کے ذریعے سروس فراہم کر سکتی ہے۔ پی ٹی اے اس مقصد کے لیے ایک نیا ’فکسڈ سروسز لائسنس‘ متعارف کرا رہا ہے، اور لائسنس کے اجرا میں زیادہ سے زیادہ 4 ہفتے لگیں گے۔
مزید پڑھیں: وزارت داخلہ نے اسٹار لنک کو کلیئرنس دے دی، لائسنس بھی جاری
دوسری جانب پی ایس اے آر بی کے سیکریٹری بلال خواجہ کا کہنا ہے کہ ریگولیشنز کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے اور یہ مرحلہ تمام پالیسی ساز اداروں اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد مکمل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ قواعد تکنیکی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی، اسپیکٹرم مینجمنٹ اور کمرشل مفادات کو بھی مدنظر رکھیں گے۔
پی ٹی اے کے مطابق، لائسنس ملنے کے بعد بھی اسٹار لنک کو سامان درآمد، کسٹمز کلیئرنس، گراؤنڈ اسٹیشنز کی تنصیب، اور ٹیسٹنگ جیسے مراحل مکمل کرنے میں مزید 4 سے 6 ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس حساب سے امکان ہے کہ کمپنی کی سروسز 2025 کے آخر سے پہلے پاکستان میں آپریشنل نہ ہو سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹار لنک پاکستان پی ٹی اے وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹار لنک پاکستان پی ٹی اے وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ اسٹار لنک کو پاکستان میں کے مطابق پی ٹی اے کے بعد کے لیے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔