کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، نئی قیمت 4 لاکھ کے قریب پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
کراچی ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے۔ 22 ستمبر 2025ء ) عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، عالمی منڈی میں سونے کے نرخ بڑھنے پر پاکستان میں بھی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے باعث پاکستان میں بھی سونے کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ بڑے اضافے کے بعد فی تولہ سونے کی نئی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
آج ملک کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونا 3 ہزار 400 روپے مہنگا ہوا ہے، جس کے باعث فی تولہ سونے کی نئی قیمت بڑھ کر3 لاکھ 93 ہزار700 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔ 10 گرام سونے کی قیمت میں 2 ہزار 915 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔(جاری ہے)
نئی قیمت 3 لاکھ 9 ہزار417 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یاد رہے ایک ماہ پہلے 24 قیراط سونے کی قیمت تقریباً 3 لاکھ 59 ہزار روپے کی سطح پر ریکارڈ کی گئی تھی۔
جس کے تحت ایک ماہ میں سونے کی قیمت میں 29 ہزار روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب ملکی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، برآمدات میں بہتری، بین الاقوامی مالیاتی انضمام اور ہمسایہ ممالک سے تجارتی تعلقات کے فروغ سے ہوتا ہے پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 12 ستمبر 2025 تک بڑھ کر 19.73 ارب ڈالر کی شاندار سطح پر پہنچ گئے ہیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذخائر میں 21 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ بڑھ کر 14.36 ارب ڈالر ہو گئے جب کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 34 ملین ڈالر کا اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد یہ 5.38 ارب ڈالر تک پہنچ گئے یہ پیش رفت مالی نظم و ضبط، سرمایہ کاروں کے اعتماد، کرنٹ اکانٹ میں بہتری اور موثر معاشی اصلاحات کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے اس اضافے سے پاکستان کو عالمی معاشی دبا کا بہتر مقابلہ کرنے کی صلاحیت ملی ہے اور درآمدات کی ضروریات کی تکمیل آسان ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سونے کی قیمت سطح پر پہنچ پہنچ گئی کا اضافہ کے ذخائر گئی ہے ہوا ہے
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے