رمضان میں ڈرامے کیوں نہیں بناتے؛ ہدایتکار دانش نواز نے ایمان افروز وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
دانش نواز اپنی مزاحیہ اداکاری اور میزبانی کے ساتھ ساتھ ہدایتکاری کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوا چکے ہیں لیکن اب رمضان میں ڈرامے بنانے سے گریز کرتے ہیں۔
دانش نواز نے اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ وہ رمضان میں اپنا کام مکمل طور پر بند کردیتے ہیں۔ نہ خود اداکاری کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی ڈراما ڈائریکٹ کرتے ہیں۔
اداکار و ہدایتکار دانش نواز نے کہا کہ وہ رمضان کے لیے مخصوص ڈرامے یا عید کے لیے بھی کسی بھی ایپی سوڈ کی رمضان میں شوٹنگ نہیں کرتے۔
اس کی وجہ بتاتے ہوئے دانش نواز نے کہا کہ رمضان اللہ کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کا مہینہ ہے۔ اس بابرکت مہینے صرف اور صرف عبادت پر توجہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔
دانش نواز نے بتایا کہ ماضی میں جب بھی رمضان کے ماہ میں ڈرامے بنائے تو میں نے دیکھا کہ عبادت کا موقع نہیں مل پاتا اور میں اس ماہ کے روحانی فیوض سے محروم رہ جاتا تھا۔
ہدایتکار دانش نواز کے بقول اسی لیے اب میں رمضان کے دوران اپنے کام سے دوری اختیار کرلیتا ہوں اور پورا ماہ صرف عبادت کرتا ہوں۔
واضح رہے کہ دانش نواز نے ماضی میں ماہِ رمضان سے متعلق ڈراموں ’ہم تم‘ اور ’چپکے چپکے‘ کی ہدایت کاری کی تھی جو کافی مقبول بھی ہوئے تھے۔
سوشل میڈیا پر انٹرویو کا یہ کلپ وائرل ہوا تو صارفین نے دانش نواز کے جذبہ ایمانی کو سراہا اور ان کی استقامت اور کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل دانش نواز نے
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔