data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور میں دودھ اور دہی کی قیمتوں میں اچانک اضافہ عوام کے لیے ایک اور مہنگائی کا جھٹکا ثابت ہوا ہے۔

دکانداروں نے دودھ کی فی لیٹر قیمت میں 10 روپے کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 210 روپے فی لیٹر مقرر کر دیا ہے، جبکہ دہی کی قیمت بھی بڑھ کر 250 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اس اچانک اضافے نے گھریلو بجٹ کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے اور شہری سخت پریشانی کا شکار ہیں۔

دکانداروں کا مؤقف ہے کہ حالیہ سیلاب نے مویشیوں کی تعداد اور دودھ کی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ چونکہ مارکیٹ میں دودھ کی سپلائی کم ہوگئی ہے، اس کمی نے قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف دودھ بلکہ دہی جیسی دیگر دودھ سے بنی اشیاء کو بھی مہنگا کر دیا ہے۔

دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ بنیادی ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے حالات ناقابلِ برداشت بنا دیے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء پہلے ہی مہنگائی کی زد میں ہیں اور اب دودھ جیسی روزمرہ کی ضرورت کی چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ دودھ اور دہی کی سپلائی بہتر بنائی جا سکے اور قیمتوں میں کمی لائی جائے۔ بصورت دیگر بڑھتی ہوئی مہنگائی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دے گی اور غریب طبقے کے لیے زندگی گزارنا اور مشکل ہو جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دودھ کی دیا ہے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ