سروائیکل کینسر ویکسی نیشن مہم مشکلات کا شکار، والدین کا انکار
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
ملک میں پہلی بار شروع کی گئی سروائیکل کینسر (HPV) و یکسی نیشن مہم کو والدین کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے، جس کے باعث حکومت کو مہم کے دوران سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق 15 سے 27 ستمبر تک جاری رہنے والی اس مہم کا ہدف 1 کروڑ 17 لاکھ سے زائد بچیوں کو ویکسین لگانا تھا، تاہم مہم کے ابتدائی 9 دنوں میں ہی تقریباً 30 لاکھ والدین نے ویکسین لگوانے سے انکار کر دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق انکار کے سب سے زیادہ کیسز پنجاب سے سامنے آئے، جہاں21 لاکھ 95 ہزار سے زائد والدین نے ویکسین سے انکار کیا۔
سندھ میں 6 لاکھ 59 ہزار، آزاد کشمیر میں 1 لاکھ 27 ہزار اوراسلام آباد میں 58 ہزار سے زائد والدین نے اپنی بچیوں کو ویکسین لگوانے سے روک دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس انکار کی بڑی وجہ غلط معلومات، سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا جھوٹا پروپیگنڈا اور ویکسین سے متعلق پائے جانے والے غلط فہمیاں ہیں، جس نے مہم کی کامیابی کو متاثر کیا۔
ماہرین صحت کے مطابق سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے HPV ویکسین عالمی سطح پر تسلیم شدہ اور محفوظ ہے، جو لڑکیوں کو ایک مہلک بیماری سے بچانے کا اہم ذریعہ ہے۔ تاہم، معاشرتی آگاہی کی کمی اس مہم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔