مائیکروسافٹ نے فلسطینیوں کی نگرانی کیلئے اسرائیلی فوج کی اے آئی ٹیکنالوجی تک رسائی روک دی
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کے اس خفیہ انٹیلی جنس یونٹ کی رسائی بلاک کر رہی ہے جو فلسطینی شہریوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کے لیے کمپنی کی کلاؤڈ اور اے آئی سروسز استعمال کر رہا تھا۔
مائیکروسافٹ کے مطابق اسرائیلی فوجی یونٹ نے کمپنی کی Azure کلاؤڈ پلیٹ فارم اور ڈیٹا سروسز کا غلط استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کے موبائل فون ریکارڈز اور ذاتی معلومات اکٹھی کیں، جو کمپنی کی شرائط کی خلاف ورزی ہے۔
کمپنی کے صدر بریڈ اسمتھ نے کہا کہ یہ فیصلہ برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کیا گیا، جس میں انکشاف ہوا کہ اسرائیل کا یونٹ 8200 فلسطینیوں کے ڈیٹا کو جاسوسی اور نگرانی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج اس معلومات سے فلسطینیوں کی نقل و حرکت، مقام اور انفرادی تفصیلات تک رسائی حاصل کر کے انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی تھی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بڑی امریکی ٹیک کمپنی نے اسرائیلی فوج کو فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزی پر پابندی عائد کی ہے۔ ماہرین کے مطابق مائیکروسافٹ کا یہ فیصلہ اس کے اپنے ملازمین اور سرمایہ کاروں کے دباؤ کے نتیجے میں سامنے آیا ہے، جو کمپنی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر تشویش ظاہر کر رہے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج استعمال کر
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔