ٹک ٹاک کی امریکا میں فروخت اور نئے ڈھانچے سے متعلق نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی قانون سازوں کے اعتراض کے باوجود چین کی کمپنی بائٹ ڈانس امریکا میں ٹک ٹاک کے بزنس آپریشنز کی بطور مالک برقرار رہے گی جبکہ ایپ کے ڈیٹا، مواد اور الگورتھم پر کنٹرول ایک نئی مشترکہ کمپنی کے پاس ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: ٹک ٹاک معاہدہ، بائٹ ڈانس کو امریکی آپریشنز میں بورڈ سیٹ مل گئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کو اوریکل، سلور لیک اور دیگر سرمایہ کاروں پر مشتمل کنسورشیم کو فروخت کیا جائے گا تاکہ قومی سلامتی کے تقاضے پورے ہوں۔

تاہم اس مجوزہ ڈھانچے پر کانگریس میں سوالات اٹھنے کے امکانات ہیں کیونکہ 2024 کے قانون کے تحت بائٹ ڈانس کو ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز مکمل طور پر فروخت کرنے تھے بصورتِ دیگر ایپ پر پابندی عائد ہو سکتی ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی چین سے متعلق خصوصی کمیٹی کے چیئرمین جان مولینار نے کہا ہے کہ وہ اس ڈیل کا مکمل جائزہ لیں گے۔ ان کے مطابق قانون واضح طور پر بائٹ ڈانس اور کسی بھی نئے امریکی ادارے کے درمیان الگورتھم کے حوالے سے تعاون پر پابندی عائد کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ نے ٹک ٹاک کے فروخت کی منظوری دے دی، امریکا میں نئی کمپنی بنے گی

رپورٹس کے مطابق نیا امریکی ڈھانچہ 2 حصوں پر مشتمل ہوگا۔ ایک مشترکہ کمپنی جو صارفین کے ڈیٹا اور الگورتھم کو کنٹرول کرے گی اور جس میں بائٹ ڈانس سب سے بڑا اقلیتی شیئر ہولڈر ہوگا جبکہ دوسری شاخ مکمل طور پر بائٹ ڈانس کی ملکیت میں رہے گی جو ای کامرس اور اشتہارات جیسے آمدنی پیدا کرنے والے شعبوں کو چلائے گی۔

نئے امریکی ٹک ٹاک کی مالیت تقریباً 14 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ چینی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق بائٹ ڈانس امریکی آپریشنز کے بزنس اور بین الاقوامی روابط برقرار رکھے گا جبکہ ڈیٹا اور الگورتھم الگ کمپنی دیکھے گی۔ واضح رہے کہ یہ رپورٹس بعد میں ہٹا دی گئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا بائٹ ڈانس ٹک ٹاک سوشل میڈیا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا بائٹ ڈانس ٹک ٹاک سوشل میڈیا امریکی آپریشنز امریکا میں بائٹ ڈانس ٹک ٹاک کے کے مطابق

پڑھیں:

امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقی اور تعلیمی اداروں پر پابندی عائد کردی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے اداروں کی ایک فہرست جاری کی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ حساس ٹیکنالوجی کی غیر مجاز منتقلی کے خطرات سے متعلق تشویش کا باعث ہیں۔

پینٹاگون کے مطابق فہرست میں شامل ان اداروں کو امریکی قوانین کے تحت دفاعی تحقیق اور حساس ٹیکنالوجی کے تبادلوں کے تناظر میں خصوصی پابندیوں اور نگرانی کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔

اس اقدام کا مقصد امریکی دفاعی ٹیکنالوجی اور حساس تحقیق کے غیر مجاز یا غیر مطلوبہ منتقلی کو روکنا بتایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس کا عملی دائرۂ کار امریکی قوانین کے تحت دفاعی تعاون، فنڈنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر مخصوص پابندیوں سے متعلق ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف