ہماری قومی سلامتی امریکہ و یورپ کی خواہش پر نہیں بن سکتی، مئیر تہران
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
میڈیا سے اپنی ایک گفتگو میں علی رضا زاکانی کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ڈیفنس کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو بڑھا رہے ہیں اور اسی وجہ سے ہمارے لئے یورپ کی باتیں قبول کرنا ممکن نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق صدارتی امیدوار اور تہران کے میئر "علی رضا زاکانی" نے حال ہی میں میڈیا سے گفتگو كی، جس میں انہوں نے ایران كے میزائل پروگرام اور اس كی رینج سے متعلق امریكہ و یورپ کے خطرناک عزائم پر تبصرہ کیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ یورپ اپنی خواہشات اور آرزووؑں کا اظہار کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے غیر قانونی مطالبے قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ طے نہیں کہ ہم اپنے آپ کو یورپ کی غیر قانونی خواہشات کے مطابق ڈھالیں۔ ہمارے لئے قومی سلامتی اور قومی صلاحیتیں سب سے اہم ہیں۔ علی رضا زاکانی نے کہا کہ ہم اپنے ڈیفنس کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو بڑھا رہے ہیں اور اسی وجہ سے ہمارے لئے یورپ کی باتیں قبول کرنا ممکن نہیں۔ دوسری جانب حال ہی میں ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے ڈائریکٹر جنرل علی لاریجانی نے اشارہ کیا کہ مغرب، تہران کے ساتھ مذاکرات میں میزائل ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اصرار کر رہے ہیں کہ ہمیں اپنی میزائل انڈسٹری پر بات کرنی چاہئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے یورپ کی
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔