WE News:
2026-07-24@03:07:24 GMT

چوکیدار  

اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT

ایسا نہیں ہوا کہ پاکستان کو اس سے پہلے ترقی کے مواقع نہیں ملے۔ ایسا بھی نہیں ہوا کہ اس سے پہلے کبھی ہمیں روشنی کی کرن نظر نہ آئی ہو۔ ایسا بھی نہیں ہوا کہ ہمیں امت مسلمہ میں ممتاز مقام ملنے کا پہلے موقع نہیں ملا۔ یہ سب بارہا ہوا۔ لیکن ہم نے یہ مواقع گنوا دیے۔ ملک کے مفاد سے زیادہ ذاتی مفاد کو ترجیح دی اور تاریخ میں مقام حاصل کرنے کے بجائے ذات کو ترجیح دی اور وہ تمام مواقع گنوا دیے۔ اس دفعہ صورت حال کتنی مختلف ہے۔ پہلے کیا ہوا تھا اور اب کیا کرنا ہے؟ ماضی سے صرف اتنا پردہ اٹھانا ہے۔

 وقت بہت بیت گیا مگر ماضی کی راکھ کبھی کبھی کریدنی چاہیے تاکہ دھواں تو اٹھے، تاکہ چنگاری تو بھڑکے، اپنی غلطیوں پر ماتم تو ہو۔ اپنے اعمال کا احوال تو بیان ہو۔

یاد رکھیں وقت گزرنے سے تاریخ دفن نہیں ہوتی بلکہ اس کے لگائے زخم گہرے ہو جاتے ہیں۔ اس کا سبق زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ ماضی کی غلطیاں زیادہ فاش نظر آنے لگتی ہیں۔ تاریخ آپ کو ذات اور وقت کے حصار سے نکال کر منظر کو دور سے رپیٹ ٹیلی کاسٹ میں دیکھنے کا موقع دیتی ہے۔

بھٹو صاحب کے دور میں اسلامی سربراہی کانفرنس ہوئی تھی۔ وہ ملک جو ابھی دو لخت ہوا تھا اس کا تشخص بحال ہوا۔ سعودی رہنما شاہ فیصل شہید نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ میزبانی کو قبول فرمایا۔ مسلم ممالک کا ایک فعال بلاک بننے کی بات ہوئی۔ غربت کے اندھیرے چاک کرنے کا اعلامیہ آیا۔ ایک دوسرے کے بازو بننے کا حوصلہ ملا۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو کا وہ کارنامہ تھا جس سے امریکا  اور یورپ خوفزدہ ہو گئے تھے۔ پھر قسمت کا پھیر الٹا چلا۔ شاہ فیصل کو شہید کر دیا گیا۔ بھٹو پھانسی پر جھول گئے۔ ہماری جھولی میں اندھیرے تھے وہ اندھیرے ہی رہ گئے۔

اس کے بعد ایک موقع آیا، افغان جہاد کا۔ جہاں دو سپر طاقتوں کی جنگ تھی۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ کسی ایک فریق کو شکست ہونا تھی۔  روس گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا تھا۔ درمیان میں افغانستان اور پاکستان حائل تھے۔ ضیاالحق کا دورتھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا کو ہماری ضرورت تھی ۔ جب امریکا اور یورپ دست بستہ ہم سے ملتمس تھے۔  امریکا کی سلامتی کی ذمہ داری ہم کو سونپ دی گئی تھی۔

آج جو لوگ یہ  منظر دیکھتے ہیں کہ ہم آئی ایم ایف سے ایک، ایک ارب ڈالر کے لیے درخواست کر رہے ہوتے ہیں انہیں شاید یاد نہ ہو کہ ہم نےا س وقت امریکی امداد کو مونگ پھلی کہہ کر ٹھکرا دیا تھا۔  ہم اپنی مرضی کے فیصلے کر رہے تھے۔ اس وقت ہم نے روس کو شکست دینا تھی لیکن صرف روس کو شکست دینا ہمارا منصب اور مقام نہیں تھا۔ ہم نے اپنے ملک کو بھی ترقی دینا تھی۔ یہاں ڈیم بننے تھے۔ یہاں یونیورسٹیاں اور اسکول کھلنے تھے، سڑکیں تعمیر ہونا تھیں۔ ترقی ہونی تھی۔ ہم روس سے جنگ میں اس قدر غرق ہوئے کہ  ہم اپنی حالت سنوارنا بھول گئے۔ ہم نے روس کو برباد کر دیا لیکن برباد ہم خود بھی ہو گئے۔ اس جنگ سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ہمارے حصے میں صرف ایسا نقصان آیا جو اب بھی ہم بھر رہے ہیں۔

انیس سو اٹھانوے میں ہم  نےا یٹمی تجربات کیے ۔ بھارت کو ناکوں چنے چبو ادیے۔ اس سے پہلے بھارت نے پانچ ایٹمی دھماکے کیے۔ دنیا بھر میں ہنگامہ مچ گیا۔ لوگ کہنے لگے کہ اس خطے کا چوہدری ایک ہی ہے۔ بھارت منی سپر پاور ہے۔ لیکن اس منی سپر پاور کا چند دنوں مِں ہی بھرکس نکل گیا جب پاکستان نے چھ ایٹمی دھماکے کیے۔ اس واقعے کی دھاک لمحوں میں پوری دنیا میں پھیل گئی۔ بھارت کی برتری دنوں میں خاک میں مل گئی۔ دنیا اس واقعے پر بھی ہماری طرف بہت چاہ سے دیکھ رہی تھی۔ اس کے بعد ترقی کا سفر شروع ہونا تھا مگر ہم نےا س موقع کو بھی ضائع کر دیا۔ ایٹمی دھماکے کرنے والے کو قید کیا اوراندرونی خلفشار کا شکار رہے۔ دنیا جو ہم پر فخر کر رہی تھی ہم پر ہنسنے لگی ۔ ہم جو تماشا کر رہے تھے خود تماشا بن گئے۔

نائن الیون بھی ایک موقع تھا، جب دنیا کو ہماری عسکری قوت کی ضرورت پڑی تھی۔ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو دہشتگردی کے خوف سے پاکستان نجات دے سکتا تھا۔ ہم اس وقت امریکا سے ملکی ترقی کے لیے بہت کچھ لے سکتے تھے مگر ہم نے بارگینگ درست نہیں کی، ہم نے ان کے تو سارے کام کیے مگر اپنی باتیں ان سے منوانا بھول گئے۔ ایک کال پر ہم ایسے ڈھیر ہوئے کہ اس کے بعد دیر تک نہیں اٹھ سکے۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہی نہیں رہا کہ تاریخ ایسے مواقع بار بار نہیں دیتی۔

پاک سعودی دفاعی معاہدہ ایک تاریخی دستاویز ہے۔ اس کے معنی اور مفاہیم بہت وسیع ہیں۔ یہ ایک تاریخی موقع ہے۔ یہ ایک عہد ساز معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کے پس منظر میں ہماری وہ کامیابی ہے جو ہم نے معرکہ حق میں حاصل کی ہے۔ اس دن سے بھارت کے ستارے گردش میں ہیں اور پاکستان کا ستارہ عروج پر ہے۔ اس جنگ کے بعد اسرائیل کی قطر میں جارحیت نے اس معاہدے کے امکانات کو مہمیز بخشی ہے۔  اب ایک بار پھر دنیا کی نظریں ہم پر مرکوز ہیں۔ اب ایک بار پھر مسلم امہ کی قیادت ہماری منتظر ہے۔ اب ایک بار پھر ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ اپنی بات منوا سکیں۔ اس موقع کو پہلے مواقع کی طرح ضائع کیا تو کف افسوس ملنے کے سوا ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ ہمیں مسلم امہ کی خدمت بھی کرنی ہے، دنیا میں بھی باوقار نام بنانا ہے۔ لیکن اس کےساتھ اس ارض پاک کو بھی ترقی دینی ہے۔ یہاں سے افلاس ، بے روزگاری اور جہالت کو ختم کرنا ہے۔ اب ترقی کےسوا ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔

تاریخ کی یہ ساعت مبارک ہے۔ یہ لمحہ عظیم ہے۔ ہم سے مسلم امہ امیدیں وابستہ کر رہی ہے۔ ہم سے دنیا ملتمس ہو رہی ہے۔ یہ وقت ماضی کے مواقع سے اس لیے مختلف ہے کہ اس وقت ہم سے نہ صرف ایٹمی قوت کے طور پر کچھ توقعات لگائی جا رہی ہیں بلکہ اس کے بدلے ہم سے حرم پاک کی حفاظت کی سعادت بھی عطا کی جا رہی ہے۔ وہ حرم پاک جہاں کا ذکر کرتے پلکیں وضو کرتی ہیں۔ ہمیں اس زمیں کی حفاظت کا ذمہ بھی مل رہا ہے اور مسلم امہ کی پاسبانی بھی تفویض کی جا رہی ہے۔

شہباز شریف خوش قسمت ہیں کہ یہ اعزاز انہیں نصیب ہوا کہ طیاروں کی سلامی ان کو دی گئی۔ شہزادہ محمد بن سلمان ان کے استقبال کے لیے آئے۔ معاہدہ  فیلڈ مارشل کی معاونت میں ایک مقدس سرزمیں پرہوا۔ ایک لمحے کو سوچیں یہی حرمین شریفین تھے، یہی مقامات مقدسہ تھے۔ اور یہاں پی ٹی آئی کے لوگ تھے جنہوں نے عورتوں کو گالیاں دیں، بال کھینچے۔ جہاں ادب سے نگاہ نہیں اٹھتی وہاں سیاسی نعرے لگائے۔ سیاسی نفرت کی دکان سجائی۔

آخری بات  فوج کو لوگ نفرت میں چوکیدار کہہ کر پکارتے تھے۔ جسے چوکیدارکا الزام دیتے تھے، اسے پاسبانی کا فرض سونپ دیا گیا۔ اب یہ الزام نہیں اعزاز ہے۔ تضحیک نہیں، توقیر ہے۔ ہتک نہیں، سعادت ہے۔ اس مقام کی جہاں کی خاک کے ایک ذرے پر ساری مسلم امہ دل و جان سے قربان ہے۔ اس سے بڑھ کر سعادت دنیا میں کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ اس سے  بڑھ کر عظیم حفاظت کوئی اور نہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے بعد ہوا کہ کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف