فردوس عاشق اعوان کا صائم ایوب کو ایگریکسو کرکٹ کھیلنے کا مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
سابق وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے صائم ایوب کو ایگریکسو کرکٹ کھیلنے کا مشورہ دیا ہے۔
سابق وزیراطلاعات فردوس عاشق نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ صائم میں آپ کو کہنا چاہوں گی کہ آپ کے اندر potential ہے لیکن ابھی سردیاں نہیں آئیں کہ انڈے ہی کھانے ہیں، اس سے باہر نکلو۔
یہ بھی پڑھیں: صفر کی بہار، صائم ایوب نے ایشیا کپ میں کتنے ناپسندیدہ ریکارڈ اپنے نام کرلیے؟
فردوس عاشق اعوان نے صائم ایوب کو مشورہ دیا کہ اپنی نیچرل گیم کھیلو، تم جس طرح خوف سے شاٹیں مار رہے ہو یہ تمہارا معیار نہیں ہے اور پہلی بال پر آؤٹ ہونا یہ ہماری بھی بے عزتی ہے۔
لیجنڈری کرکٹر فردوس عاشق اعوان صاحبہ کے پاک بھارت میچ سے پہلے صائم ایوب کے لیے مفید مشورے ???????? pic.
— Umar Ali (@Umar_AliX) September 27, 2025
انہوں نے کہا کہ بھارت کو دھونے کے بعد آؤٹ ہو تو ہمیں ٹھنڈ پڑجائے گی، ذرا تھوڑا طور پر تیار ہوکر دباؤ سے باہر آؤ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news صائم ایوب فردوس عاشق اعوان کرکٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: صائم ایوب فردوس عاشق اعوان کرکٹ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔