بجلی صارفین پر 6 سال کیلئے فی یونٹ 3 روپے سے زائد فکس چارجز عائد کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 ستمبر2025ء) بجلی صارفین پر 6 سال کیلئے فی یونٹ 3 روپے سے زائد فکس چارجز عائد کرنے کا فیصلہ، بجلی کمپنیوں کی بدانتظامی، نااہلی اور بجلی چوری کی قیمت ملک بھر کے بجلی صارفین کو ادا کرنا ہو گی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ پاکستان کے لیے وبالِ جان بن گیا، جسے ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے،ماضی میں مہنگے قرضے لیے گئے، موجودہ حکومت نے بینکوں کے ساتھ کامیاب مذکرات کر کے ساڑھے 3 سے ساڑھے 5 فیصد کم سود کے ساتھ سستا قرضہ حاصل کیا، ہم نے فیصلے کا بوجھ عوام پر پڑنے نہیں دیا، گردشی قرضہ ختم نہیں ہو رہا تھا، اب اسے ختم کر کے رہیں گے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ پاور سیکٹر کا ایک ہزار 225 ارب روپیکا گردشی قرضہ بینکوں سے سستا قرضہ حاصل کر کے آئندہ 6 برسوں میں ختم کر دیا جائے گا۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ ماضی میں مہنگے قرضے لیے گیے تاہم موجودہ حکومت نے بینکوں کے ساتھ کامیاب مذکرات کر کے ساڑھے 3 سے ساڑھے 5 فیصد کم سود کے ساتھ سستا قرضہ حاصل کیا، ہم نے اس فیصلے کا بوجھ عوام پر پڑنے نہیں دیا، گردشی قرضہ ختم نہیں ہو رہا تھا، اب اسے ختم کر کے رہیں گے۔
وزیر توانائی نے کہاکہ اگر آئندہ 6 برسوں میں بجلی کا استعمال زیادہ ہوا تو ممکن ہے کہ بقیہ گردشی قرضہ مقررہ مدت سے قبل ہی ختم ہو جائے۔انہوں نے بتایا کہ انرجی سیکٹر پر مجموعی طور پر 2400 ارب روپے کا گردشی قرضہ تھا، جس میں سے ہم نے 800 ارب کا قرض بہترین پرفارمنس کے ساتھ بغیر قرضہ لیا ختم کیا۔اویس لغاری نے کہا کہ چوری اور بہترین ریکوری کی مد میں ہم نے 242 ارب روپے کا قرضہ ختم کیا، سود پر انٹرسٹ ریٹ کم ہونے سے 175 ارب روپے، مائیکرو اکنامک کنڈیشنز میں بہتری کے باعث 363 ارب روپے، آئی پی پیز کے ساتھ ازسر نو کانٹریکٹس، لیٹ پیمنٹ چارجز ختم کرنے کے باعث مجموعی طور پر 816 روپے کا گردشی قرضہ کم کیا گیا، جس سے کل گردشی قرضہ 2 ہزار 393 ارب سے کم ہو کر 1614 ارب پر آگیا ہے۔وزیر توانائی نے بتایا کہ پاور سیکٹر پر سال 2018 میں گردشی قرضہ تقریبا ایک ہزار 100 ارب رورپے تھا، 2022 میں یہ بڑھ کر تقریبا 2 ہزار 280 ارب روپے تک پہنچ گیا، گزشتہ برس جب ہم نے حکومت سنبھالی تو گردشی قرضے کا کل حجم 2 ہزار 400 ارب کے قریب تھا، ہم نے ایک سال میں بغیر کوئی نیا قرض لیے اور عوام پر بوجھ بڑھائے تقریبا 800 ارب روپے کی ریکارڈ کمی کی۔اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بھر پور منصوبہ بندی کے تحت لائی گئی اس اسکیم سے گردشی قرضے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن ہو جائیگا، پاکستان کی اکنامی، انرجی سیکٹر پر انحصار کرتی ہے، معیشت کی بہتری کے لیے پاور سکٹر میں اس سے قبل ایسا اقدام نہیں اٹھایا گیا تھا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کا گردشی قرضہ وزیر توانائی لغاری نے کہا نے کہا کہ ارب روپے کے ساتھ
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔