سی پیک فیز 2 کا آغاز، بلوچستان میں معدنیات راہداری قائم کی جائے گی، وفاقی وزیر
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ سی پیک فیز 2 کا آغاز کردیا گیا ہے جس کے تحت بلوچستان کی معدنیات کو گوادر سے جوڑنے کیلیے راہداری قائم کی جائے گی۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کی بیجنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 14 میں سے 11ویں سی پیک کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت میرے لئے اعزاز ہے، 14 ویں جے سی سی نے باضابطہ طور پر سی پیک فیز 2 کا آغاز کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک فیز ٹو گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ کی بجائے بزنس ٹو بزنس تعاون پر زور دے گا، چینی کمپینیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول مہیا کیا جائے گا۔
احسن اقبال نے کہا کہ بیجنگ کی سرمایہ کاری کانفرنس نئے سفر کا نقطہ آغاز ہے، اڑان پاکستان کا ہدف پاکستان کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے۔ فائیو ایز فریم ورک اور سی پیک کی پانچ راہداریاں ایک دوسرے سے جڑی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گروتھ راہداری پاکستان کی برآمدات بڑھانے اور معاشی ترقی تیز کرنے کا احاطہ کرتی ہے، برآمدات کو پائیدار ترقی کا محور بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا چین کی دو ٹریلین ڈالر برآمدات میں انتہائی کم حصہ ہے، پاکستانی مصنوعات پر بھی آسیان ممالک کا ٹیرف نافذ کرنے کی تجویز دی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ روزگار پیدا کرنے کی راہداری پاکستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی احاطہ کرتی ہے، انوویشن راہداری کا مقصد ٹیکنالوجی میں چین کے تجربات سے فائدہ اٹھانے اور ڈیجیٹل سلک روٹ بنانا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ گرین انرجی راہداری موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے اور تیار رہنے میں باہمی تعاون کو فروغ دے گی جبکہ انفراسٹرکچر راہداری میں وسطی ایشیاء اور افغانستان کے ساتھ علاقائی ربط کے لئے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر شی جین پنگ کا خوشحالی اور مشترکہ علاقائی ترقی کا وژن اڑان پاکستان سے ہم آہنگ ہے ، پاکستان نے سی پیک فیز ٹو میں عوام کی ترقی اور نوجوانوں کی ہنرمندی کو مرکزی حیثیت دینے کی تجویز پیش کی ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، سی پیک فیز 2 نوجوانوں کو قومی ترقی کے سفر میں شامل کرے گا، اگلے دس سالوں میں دس ہزار نوجوانوں کو نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں چین کی پچاس بڑی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کی تجویز دی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ تربیت سے پاکستان کی معیشت کی بنیاد کو جدید ٹیکنالوجی پر استوار کرنے میں مدد ملے گی، اگلی دو دہائیوں میں پاکستان کے نوجوانوں کو ڈیجیٹل صلاحیتوں سے آراستہ کر کے معاشی انقلاب لا سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو جدید تعلیم و تربیت سے لیس کرنا ہمارا پہلا ہدف ہے، چین کے ہنر مندی پر مبنی فنی تعلیمی و تربیتی تعاون پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے غربت کیلیے خاتمے چین کے اقدامات پر عمل کرے گا، چین کے تجربہ سے سیکھ کر ملک میں پائیدار ترقی اور عوامی خوشحالی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ شاہراہ قراقرم کے دوسرے مرحلہ پر کام کی رفتار تیز کرنے پر اتفاق ہوا جبکہ گوادر کو بلوچستان کی معدنیات سے منسلک کرنے کے لیے معدنیات راہداری کے قیام پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو سی پیک فیز 2 احسن اقبال کہ پاکستان وفاقی وزیر چین کے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔