ایشیا کپ میں پاک بھارت ٹاکرے ایک بار پھر میدان سے زیادہ تنازعات میں گھر گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا اور بی سی سی آئی کی طرف سے پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف شکایات اور پروپیگنڈے کی بوچھاڑ نے یہ ثابت کر دیا کہ بھارت کھیل کو کھیل نہیں بلکہ سیاست اور دشمنی کا میدان سمجھتا ہے۔

سپرفور میچ میں صاحبزادہ فرحان کی نصف سنچری پر منفرد انداز میں خوشی منانے اور حارث رؤف کے ہاتھ کے اشارے کو بھارت نے برداشت نہ کیا۔

بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے دونوں پاکستانی کھلاڑیوں کی حرکات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف آئی سی سی کو شکایت درج کرا دی ہے۔

بھارتی بورڈ کے مطابق حارث رؤف نے بھارتی فوج کی ناکام کارروائیوں اور طیارے کی تباہی کا مذاق اڑایا اور فرحان نے اپنے بلے کو بندوق کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جشن منایا۔

????THE BCCI LODGES COMPLAINT????

– The BCCI has lodged an official complaint against Haris Rauf & Sahibzada Farhan

– The BCCI demands strict actions from the match referee Andy Pycroft against both for provocative behaviour

– What’s your take???? #INDvPAK pic.

twitter.com/XkeDWtKA9R

— Richard Kettleborough (@RichKettle07) September 25, 2025

Sahibzada Farhan hunting Rafale and Indian cricket team. pic.twitter.com/Qdo0RrZYWa

— Azlan (@azlanxz) September 21, 2025

اس کے علاوہ جلے پر نمک چھڑکتے ہوئے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر اور پی سی بی کے سربراہ محسن نقوی نے بدھ کو ایکس پر کرسٹیانو رونالڈو کی ایک سلو موشن ویڈیو پوسٹ کی، جس میں پرتگالی لیجنڈ اشارہ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ جیسے کوئی طیارہ اچانک گر کر تباہ ہو گیا ہو۔

pic.twitter.com/1zbuJvz7m0

— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) September 24, 2025

اس سے قبل پاکستانی کرکٹ بورڈ بھی بھارت کے دوہرے معیار کو دنیا کے سامنے رکھ چکا ہے اور ستمبر کو کھیلے گئے میچ سوریہ کمار یادیو کی کھلی سیاسی بیان بازی پر آئی سی سی کو شکایت درج کرائی گئی ہے۔

سوریہ نے اپنی جیت کو بھارتی فوجی آپریشن سے منسوب کر کے کرکٹ کو سیدھا سیاست سے جوڑا، جو کھیل کے قوانین کے سراسر خلاف ہے۔

ऐसा पहली बार हुआ है जब हमने भारत पाकिस्तान मैच नहीं देखा है। भारतीय क्रिकेट टीम को जीत की बधाई।

Abhishek Sharma, Surya Kumar Yadav and Kuldeep Yadav played well.

No Handshake for Indian Army ????#INDvsPAK pic.twitter.com/3mehMBveNa

— Rajkumar Meena (@rkmeena52) September 14, 2025

پی سی بی کا مؤقف ہے کہ بھارت کھلاڑیوں کے جذباتی جشن کو تو نشانہ بناتا ہے لیکن اپنی فوجی کاروائیوں کو کھیل سے جوڑنے والوں پر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ بھارت کی پرانی عادت ہے کہ جب بھی پاکستان کسی کھیل یا سفارتی میدان میں نمایاں ہوتا ہے، بھارتی میڈیا اور بی سی سی آئی بے بنیاد الزامات کے ذریعے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی سلسلے میں سوشل میڈیا پر بھی بھارتی پراپیگنڈہ مشینری متحرک ہے اور پاکستان مخالف مہم چلائی جا رہی ہے۔

پاکستانی عوام اور سوشل میڈیا صارفین نے واضح کیا ہے کہ حارث اور فرحان کے اشارے بھارتی جارحیت اور ماضی کی ذلت آمیز شکستوں کی یاد دہانی تھے، جسے بھارت کبھی برداشت نہیں کر سکتا۔

عوام کا کہنا ہے کہ بی سی سی آئی کی شکایت دراصل بھارتی کمزوری اور پاکستان کے خوف کا اظہار ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بھارت نے ہر بڑے ایونٹ میں پاکستان کے خلاف سیاسی حربے استعمال کیے ہیں۔ چاہے وہ ویزا مسائل ہوں، ہوم گراؤنڈ پر کھیلنے کی مخالفت ہو یا اب آئی سی سی میں شکایات،بھارت کا مقصد ہمیشہ پاکستان کو دباؤ میں لانا رہا ہے۔

Post Views: 2

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے خلاف

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا