بھارتی کرکٹ بورڈ نے فرحان اور حارث کے خلاف آئی سی سی میں شکایت درج کرادی
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
ایشیا کپ میں پاک بھارت ٹاکرے ایک بار پھر میدان سے زیادہ تنازعات میں گھر گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا اور بی سی سی آئی کی طرف سے پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف شکایات اور پروپیگنڈے کی بوچھاڑ نے یہ ثابت کر دیا کہ بھارت کھیل کو کھیل نہیں بلکہ سیاست اور دشمنی کا میدان سمجھتا ہے۔
سپرفور میچ میں صاحبزادہ فرحان کی نصف سنچری پر منفرد انداز میں خوشی منانے اور حارث رؤف کے ہاتھ کے اشارے کو بھارت نے برداشت نہ کیا۔
بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے دونوں پاکستانی کھلاڑیوں کی حرکات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف آئی سی سی کو شکایت درج کرا دی ہے۔
بھارتی بورڈ کے مطابق حارث رؤف نے بھارتی فوج کی ناکام کارروائیوں اور طیارے کی تباہی کا مذاق اڑایا اور فرحان نے اپنے بلے کو بندوق کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جشن منایا۔
????THE BCCI LODGES COMPLAINT????
– The BCCI has lodged an official complaint against Haris Rauf & Sahibzada Farhan
– The BCCI demands strict actions from the match referee Andy Pycroft against both for provocative behaviour
– What’s your take???? #INDvPAK pic.
— Richard Kettleborough (@RichKettle07) September 25, 2025
Sahibzada Farhan hunting Rafale and Indian cricket team. pic.twitter.com/Qdo0RrZYWa
— Azlan (@azlanxz) September 21, 2025
اس کے علاوہ جلے پر نمک چھڑکتے ہوئے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر اور پی سی بی کے سربراہ محسن نقوی نے بدھ کو ایکس پر کرسٹیانو رونالڈو کی ایک سلو موشن ویڈیو پوسٹ کی، جس میں پرتگالی لیجنڈ اشارہ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ جیسے کوئی طیارہ اچانک گر کر تباہ ہو گیا ہو۔
pic.twitter.com/1zbuJvz7m0
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) September 24, 2025
اس سے قبل پاکستانی کرکٹ بورڈ بھی بھارت کے دوہرے معیار کو دنیا کے سامنے رکھ چکا ہے اور ستمبر کو کھیلے گئے میچ سوریہ کمار یادیو کی کھلی سیاسی بیان بازی پر آئی سی سی کو شکایت درج کرائی گئی ہے۔
سوریہ نے اپنی جیت کو بھارتی فوجی آپریشن سے منسوب کر کے کرکٹ کو سیدھا سیاست سے جوڑا، جو کھیل کے قوانین کے سراسر خلاف ہے۔
ऐसा पहली बार हुआ है जब हमने भारत पाकिस्तान मैच नहीं देखा है। भारतीय क्रिकेट टीम को जीत की बधाई।
Abhishek Sharma, Surya Kumar Yadav and Kuldeep Yadav played well.
No Handshake for Indian Army ????#INDvsPAK pic.twitter.com/3mehMBveNa
— Rajkumar Meena (@rkmeena52) September 14, 2025
پی سی بی کا مؤقف ہے کہ بھارت کھلاڑیوں کے جذباتی جشن کو تو نشانہ بناتا ہے لیکن اپنی فوجی کاروائیوں کو کھیل سے جوڑنے والوں پر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ بھارت کی پرانی عادت ہے کہ جب بھی پاکستان کسی کھیل یا سفارتی میدان میں نمایاں ہوتا ہے، بھارتی میڈیا اور بی سی سی آئی بے بنیاد الزامات کے ذریعے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسی سلسلے میں سوشل میڈیا پر بھی بھارتی پراپیگنڈہ مشینری متحرک ہے اور پاکستان مخالف مہم چلائی جا رہی ہے۔
پاکستانی عوام اور سوشل میڈیا صارفین نے واضح کیا ہے کہ حارث اور فرحان کے اشارے بھارتی جارحیت اور ماضی کی ذلت آمیز شکستوں کی یاد دہانی تھے، جسے بھارت کبھی برداشت نہیں کر سکتا۔
عوام کا کہنا ہے کہ بی سی سی آئی کی شکایت دراصل بھارتی کمزوری اور پاکستان کے خوف کا اظہار ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بھارت نے ہر بڑے ایونٹ میں پاکستان کے خلاف سیاسی حربے استعمال کیے ہیں۔ چاہے وہ ویزا مسائل ہوں، ہوم گراؤنڈ پر کھیلنے کی مخالفت ہو یا اب آئی سی سی میں شکایات،بھارت کا مقصد ہمیشہ پاکستان کو دباؤ میں لانا رہا ہے۔
Post Views: 2
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔