لداخ میں پُرتشدد مظاہرے 4 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
بھارت کے زیرِ انتظام وفاقی علاقے لداخ میں ریاستی درجہ اور مقامی افراد کے لیے روزگار کے کوٹے کے مطالبے پر ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے دوران کم از کم 4 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شہر میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں بی جے پی کے دفتر سمیت کئی عمارتوں کو آگ لگائی گئی، پولیس کی گاڑیاں نذرِ آتش ہوئیں اور متعدد افراد کو تشدد کے واقعات کے باعث زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں میں 20 سے زائد پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ 2019 میں لداخ کو مقبوضہ جموں و کشمیر سے الگ کرکے وفاقی خطہ بنانے کے بعد اس کی خودمختاری ختم کر دی گئی، اس لیے اسے دوبارہ خصوصی درجہ دیا جائے تاکہ مقامی ادارے قبائلی علاقوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنا سکیں۔
مزید پڑھیں: بھارت کو شدید دھچکا، چین نے لداخ کے اہم حصے اپنے نام کر لیے
مظاہرین کے رہنما تھپستان تسوانگ نے کہا کہ نوجوانوں کی قربانیاں ضائع نہیں ہونے دی جائیں گی، جبکہ دیگر رہنماؤں نے عوام سے پرامن جدوجہد پر زور دیا۔ دوسری جانب لیفٹیننٹ گورنر کویندر گپتا نے ویڈیو پیغام میں شہریوں سے تشدد ختم کرکے امن قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر اجتماعات اور احتجاجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ بھارتی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ لداخ کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلا دور 6 اکتوبر کو ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
4 افراد ہلاک پرتشدد مظاہرے لداخ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 4 افراد ہلاک پرتشدد مظاہرے
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔