UrduPoint:
2026-06-03@02:38:05 GMT

لداخ: ریاستی حیثیت کے لیے پر تشدد مظاہرے

اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT

لداخ: ریاستی حیثیت کے لیے پر تشدد مظاہرے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 24 ستمبر 2025ء) بھارت کے زیر انتظام خطہ لداخ کے لیہہ شہر میں بدھ کے روز مشتعل مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور مشتعل ہجوم نے سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور پولیس ایک گاڑی کو بھی نذر آتش کر دیا۔

مودی حکومت نے لداخ کو کشمیر علیحدہ کر کے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنا دیا تھا، جس کے خلاف اب تحریک جاری ہے، تاہم اس دوران تشدد کی یہ پہلی مثال ہے۔

بدھ کے روز سینکڑوں مظاہرین ریاست کا درجہ بحال کرنے اور آئینی تحفظات کا مطالبہ کرتے ہوئے لیہہ کی سڑکوں پر نکل آئے۔

مشتعل مظاہرین نے لداخ کے لیہہ میں بی جے پی کے دفتر پر حملہ کردیا اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ جواباً پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا۔

(جاری ہے)

حالیہ برسوں میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ لداخ میں اس طرح کی جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں سے ماحولیات کے معروف کارکن سونم وانگچوک لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور اس خطے کو آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے لیے بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔

پچھلے تین سالوں کے دوران لداخ میں براہ راست مرکزی حکومت کے زیر انتظام حکمرانی کے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضگی دیکھی گئی ہے۔ یہاں کے باشندے بار بار اپنی زمین، ثقافت اور وسائل کی حفاظت کے لیے ریاست اور آئینی تحفظات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے آرٹیکل 370 کی منسوخی اور جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد اگست 2019 میں لداخ کو ایک علیحدہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنا دیا گیا تھا۔

اس وقت لیہہ میں بہت سے لوگوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا تھا۔ لیکن ایک سال کے اندر ہی اس کے خلاف تشویش بڑھنے لگی اور لوگ مودی حکومت کی انتظامیہ سے تنگ آنے لگے۔

اس عدم اطمینان نے بڑے پیمانے پر احتجاج اور بھوک ہڑتالوں کو جنم دیا۔

اس بار بدھ مت کی اکثریتی آبادی لیہہ اور مسلم اکثریتی کارگل کے سیاسی اور مذہبی گروہوں نے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے تحت ہاتھ ملایا ہے اور وہ مرکز کے خلاف ایک تحریک چلا رہے ہیں۔

اس کے جواب میں مرکز نے لداخ کے مطالبات کی جانچ کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی، تاہم، مذاکرات کے پے در پے دوروں میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ مقامی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ ان کے بنیادی مطالبات کو مسترد کر رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے زیر انتظام کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق

شہر قائد کے علاقے سرجانی ٹاؤن روزی گوٹْھ میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں باپ اور بیٹا جاں بحق جبکہ دوسرا بیٹا زخمی ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں والد اور دو بیٹے زخمی ہوئے۔ 

مقتولین کی لاشوں اور زخمی کو چھیپا کے رضا کاروں نے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔

اس حوالے سے ترجمان ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کا کہنا ہے کہ سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ سے جاں بحق افراد کی شناخت 62 سالہ کامل حسین اور اس کے بیٹے کو 26 سالہ دوہان کے نام شناخت کیا گیا جبکہ زخمی ہونے والے دوسرے بیٹے 30 سالہ عادل کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات میں پتہ چلا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ رشتے داروں کے درمیان تنازع پر جھگڑے کے دوران پیش آیا جس کی اطلاع ملتے ہی سرجانی ٹاؤن پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد حاصل کیے اور واقعے کی مزید چھان بین شروع کر دی ہے۔

ترجمان کے مطابق  فائرنگ کرنے والے ملزم کی بھی شناخت کرلی گئی ہے جس کی گرفتاری کے لیے لیے پولیس چھاپہ مار رہی ہے جسے جلد گرفتار کرلیا جائیگا۔

ایس ایچ او سرجانی ٹاؤن سہیل خاصخیلی نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ لڑکی کے رشتے پر ہونے والے تنازعے کی وجہ سے پیش آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں