Jasarat News:
2026-07-24@03:01:37 GMT

Never Again

اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

1945 میں دنیا نے فیصلہ کیا کہ ہٹلر کے جرمن جنرلز کو جنگی جرائم، نسل کشی اور جرائم ِ انسانیت کے لیے جوابدہ ٹھیرایا جائے گا۔ نیرمبرگ مقدمات نہ صرف مجرموں کی سزا کے لیے تھے بلکہ انسانی حقوق اور عالمی امن کے قیام کی بنیاد بھی تھے، اور اس کے ساتھ ’’Never Again‘‘ کا وعدہ بھی دیا گیا۔ آج، تقریباً ایک صدی بعد، یہی وعدہ دوبارہ چیلنج ہو رہا ہے، نیتن یاہو کے اسرائیل کی جارحیت اور بدلتے ہوئے عالمی سیاسی منظرنامے کے ذریعے۔ ابتدائی ردعمل میں حیرت اور تشویش ہوئی، مگر جلد ہی واضح ہو گیا کہ مسئلہ صرف کسی ایک ملک یا گروہ تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی سیاست اور دوہرے معیار کا عکس ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور OIC نے دوحا میں اسرائیل کے حملے کو خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا اور شدید مذمت کی لیکن میڈیا کی کوریج نے ایک واضح فرق ظاہر کر دیا۔ Reuters اور BBC نے اسے محض ایک معمولی کشیدگی کے طور پر پیش کیا، جبکہ Guardian نے کہا کہ یہ خلیج کے لیے ایک صدمہ ہے اور اسرائیل کو ایران سے بڑا خطرہ دکھاتا ہے۔ Al Jazeera اور The New Arab نے اسے ثالثی کی تخریب، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور مغربی میڈیا کی طرف سے اسرائیلی جارحیت کے معمول بنانے کا ثبوت قرار دیا۔

دوحا میں اسرائیل کے حملے پر غور کرتے ہوئے، ایک واضح تضاد نظر آتا ہے: جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو مغربی میڈیا نے اسے دنیا کے لیے ایک ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دیا۔ لیکن جب دوحا پر حملہ ہوا، جو ایک امریکی اتحادی بھی ہے، اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ یہی ظاہر کرتا ہے کہ بعض اتحادی دوسرے سے زیادہ ’’پاک‘‘ سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وہ سبق ہے جو خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو سیکھنا چاہیے اور سمجھنا چاہیے: صرف ریاستی تعلقات یا سیاسی سفارت کاری کافی نہیں، عوامی شعور اور حقیقی خطرات کو نظر انداز کرنے کی قیمت خطے کے امن پر پڑ سکتی ہے۔ بھارت، اسرائیل بمقابلہ پاکستان کے زاویے سے دیکھا جائے تو صورتحال مزید واضح ہوتی ہے: اسرائیل بھارت کو بغیر پائلٹ ہوائی جہاز، نگرانی کی ٹیکنالوجی، اور انسجنسی کے خلاف حربے فراہم کرتا ہے، جبکہ بھارت خود کو اقتصادی اور جوہری طاقت کی بنیاد پر عظیم سمجھتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی ہتھیاروں اور رافیل طیاروں کے باوجود بھارت نے نہ چین کے سامنے مؤثر ردعمل دکھایا، نہ پاکستان کے۔ پاکستان کی فوج تجربہ کار ہے، روایتی اور مخلوط جنگوں میں حقیقی تجربہ رکھتی ہے، اور اس کا جوہری ڈھال خطے کے توازن کو برقرار رکھنے والا اہم مساوی عنصر ہے۔ بھارت کی داخلی میڈیا اور سیاسی مشینری پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا چلاتی ہے، جس سے وہ اپنے غیرملکی اور اسلام دشمن ووٹر بیس کو مطمئن رکھتا ہے، مگر حقیقتاً پاکستان کے خلاف کوئی بین الاقوامی شواہد موجود نہیں۔

دوحا میں اسرائیل کے حملے نے نہ صرف قطر کے دارالحکومت کو ہدف بنایا بلکہ عالمی امن اور ثالثی کے عمل کو بھی چیلنج کیا۔ قطر اور سعودی عوام نے حماس کے حق میں سڑکوں پر احتجاج کیا، جو یہ دکھاتا ہے کہ بادشاہتیں جو عام طور پر عوامی رائے کو محدود کرتی ہیں، اب عوامی دباؤ کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ خلیجی تعاون کونسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف ریاستی سفارت کاری کافی نہیں، عوامی توقعات اور احساسات بھی خطے کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان اس تمام منظرنامے میں ایک پوشیدہ مگر کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعظم کا فوری قطر دورہ اور سعودی عرب کے ساتھ طویل المدتی غیر تحریری سیکورٹی معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں ایک اسٹرٹیجک ضامن کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ماضی میں مدینہ پر حملے کو خاموشی سے سنبھالا گیا، مگر آج پاکستان کا گرم استقبال ظاہر کرتا ہے کہ ریاض اور دوحا کے لیے اسلام آباد ایک ناگزیر حفاظتی ڈھال ہے۔ پاکستان کا یہ کردار عالمی سطح پر مسلم دنیا کے استحکام اور امن کے لیے ایک مرکزی محور بناتا ہے۔

اقوامِ متحدہ، جو نیرمبرگ کے وعدے پر بنی تھی کہ کبھی دوبارہ ایسی درندگی نہ دہرائی جائے، آج مفلوج ہے۔ ہر جنگ بندی کی قرارداد کو امریکا مسترد کر دیتا ہے، اسرائیل اقوامِ متحدہ کی تمام قراردادیں نظر انداز کرتا ہے، بین الاقوامی فوجداری عدالت نیتن یاہو اور گیلانٹ کے لیے وارنٹ جاری کرتی ہے مگر اثر کچھ نہیں ہوتا۔ سلامتی کونسل منقسم ہے اور جنرل اسمبلی بے اثر ہے۔ وہ ادارہ جو کبھی ظلم کے خلاف کھڑا ہوا تھا، آج بے اثر ہے، اور ’’Never Again‘‘ کا وعدہ ’’بار بار‘‘ میں بدل گیا ہے۔

اسرائیل کا قطر پر حملہ اور اس کے بعد کے ردعمل ظاہر کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نئے موڑ پر ہے۔ خلیجی عوامی احتجاج کو دبایا نہیں جا سکتا، سعودی عرب کی پرانی پالیسیاں بدل رہی ہیں اور پاکستان محض تماشائی نہیں بلکہ ایک مرکزی کھلاڑی ہے، جو عرب دنیا اور عالمی توازن دونوں میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ مسلم دنیا کے لیے یہ لمحہ ایک ہنگامی سبق ہے: اگر ہم نے ’’Never Again‘‘ کو عملی شکل نہ دی تو ظلم اور درندگی بار بار دہراتی رہے گی۔ پاکستان اس منظرنامے میں ایک پوشیدہ اسٹرٹیجک کارڈ کے طور پر موجود ہے، جو خطے میں توازن اور اسلامی مقدسات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ اور جیسا کہ یہ ’’Never Again‘‘ کا وعدہ بار بار دہرایا جا رہا ہے، واضح ہوتا ہے کہ آج کی دنیا میں کوئی بھی طاقت، کوئی بھی ملک محفوظ نہیں۔ نہ کوئی تنظیم، نہ کوئی وعدہ، اور نہ کوئی حکمت عملی اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ کسی پر ظلم یا جارحیت دوبارہ نہیں ہوگی۔ ہر کوئی ایک دوسرے کی حدود کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتا نظر آ رہا ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جو ہمیں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔

رمیصاء عبدالمھیمن سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان کے ظاہر کر کرتا ہے کے خلاف اور اس کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف