واشنگٹن میں اپنے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے سے خطاب میں عالمی امور کے ماہر کا کہنا تھا کہ سی پیک اربوں ڈالر کا منصوبہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں "سیاسی وجوہات" کی وجہ سے سست پڑ گیا تھا، یہ منصوبہ ختم نہیں ہوا، بلکہ سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ چین اب تک اس منصوبے میں 26 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ کے چیئرمین محمد مہدی نے واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین پاکستان کی دفاعی ضروریات کا 80 فیصد سے زیادہ فوجی ہارڈ ویئر فراہم کرتا ہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی امریکن نیشنل انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے دیئے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ نے گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کو کوئی فوجی سامان فراہم نہیں کیا۔ اس تقریب کا اہتمام ان کے اعزاز میں PANI کے چیئرمین سینئر صحافی و پاکستانی نژاد کمیونٹی کے ممتاز رہنما فیض رحمان نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان کا چینی ہتھیاروں پر انحصار میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کا ذکر کیا کہ گزشتہ پانچ سال میں پاکستان کی اسلحہ کی درآمدات کا 80 فیصد سے زیادہ چین سے آیا ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جو بہت اہم منصوبہ ہے، کے بارے میں محمّد مہدی نے افسوس کا اظہار کیا کہ یہ اربوں ڈالر کا منصوبہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں "سیاسی وجوہات" کی وجہ سے سست پڑ گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واضح رہنا چاہئے کہ یہ  منصوبہ ختم نہیں ہوا، بلکہ سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ چین اب تک اس منصوبے میں 26 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی کے خدشات بھی ایک بڑا چیلنج ہیں، مگر پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج کی قیادت اس چیلنج سے نبٹنے کیلئے پر عزم ہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ چین اور پاکستان کی انتہائی قربت کے باوجود پاکستان میں کچھ حلقوں میں اب بھی تحفظات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان کی ثقافت، روایات اور تاریخ مغرب کیساتھ زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔ انہوں نے شرکا سے ذکر کیاکہ امریکی اسکالرز، صحافیوں اور پالیسی سازوں سے ان کی ملاقات واشنگٹن میں ہوئی اور ان تمام نے چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے بارے میں تجسس کا اظہار کیا۔اپنے استقبالیہ کلمات میں فیض رحمان نے اقوام کے درمیان مکالمے اور گفت و شنید کی اہمیت پر زور دیا۔ ظہرانے میں مواحد شاہ، ڈاکٹر حسن عباس، فوزیہ قصوری، دانیال قصوری، سابق سینیٹر ڈاکٹر اکبر خواجہ، افشاں خواجہ و دیگر بھی شامل تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں پاکستان کی

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ