مسافربس اور ایرانی تیل سے بھری گاڑی میں تصادم، 8افراد جھلس کر ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سی پیک روڈ قومی شاہراہ پر ایک مسافر بس اور ایرانی تیل سے بھری گاڑی کے درمیان خطرناک تصادم کے سبب دونوں گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی جس میں 8 افراد جھلس کر جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ حادثہ تیز رفتاری کی وجہ سے پیش آیا، ابتدائی طور پر 5 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی تھی لیکن ایک زخمی کی ہسپتال منتقلی سے قبل موت کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 6 ہوگئی بعدازاں مزید دو افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے، جس سے جاں بحق افراد کی تعداد 8 ہوگئی۔ ریسکیو ذرائع نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر ٹیچنگ ہسپتال پنجگور منتقل کردیا گیا، زخمیوں کا علاج جاری ہے جبکہ ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔پولیس نے حادثے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور تیز رفتاری کو ابتدائی طور پر حادثے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔یہ واقعہ بلوچستان میں روڈ سیفٹی کے سنگین مسائل کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں ناقص سڑکوں اور گاڑیوں کی خراب حالت کے باعث اس طرح کے حادثات معمول بن چکے ہیں، مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ سی پیک روڈ پر حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔