گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کادورہ صوابی
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
صوابی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 ستمبر2025ء)گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوابی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے گدون امازئی کے گائوں دالوڑی بالا میں کلائو ڈ برسٹ کے نتیجے میں 42 جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے اجتماعی فاتحہ خوانی کی۔ ہلال احمر خیبرپختونخوا کے چیئرمین فرزند علی وزیر ، پیپلز پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ابرار سعید سواتی اور دیگر رہنما بھی انکے ہمراہ تھے ،اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات کے متاثرین کی مدد کے لیے ہمیں اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی اور یکجہتی کا تقاضا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوں انہوں نے قدرتی آفات میں امدادی کارروائیوں کے دوران ہلالِ احمر خیبرپختونخوا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے نے فوری اور مثر انداز میں ریلیف فراہم کر کے قابلِ تعریف خدمت انجام دی ہے۔(جاری ہے)
دورے کے دوران گورنر نے متاثرین کے مسائل سنے اور حکام کو ہدایت کی کہ امدادی کارروائیوں میں تیزی لائی جائے اور ہر ممکن سہولت فراہم کی جائی- انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی ازسرنو تعمیر و مرمت ، بجلی و نیٹ سروس کی بحالی اور پینے کی صاف پانی کی فراہمی ہماری وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی ،اس مشکل گھڑی میں غم زدہ لواحقین اور اکیلے نہیں چھوڑیں گے ہماری تمام ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں، متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے ، اور اس کے لئے نہ صرف وفاقی حکومت بلکہ سندھ اور بلوچستان حکومت بھی بھرپور تعاون کرے گی ،اس قدرتی آفات میں لواحقین کے ساتھ تعزیت اور فاتحہ خوانی کے لیے یہاں آیا ہوں ، ہلال احمر کی جانب سے متاثرین کے لیے پینے کی صاف پانی کی فراہمی کے لیے تین عدد فلٹریشن اور ساٹھ عدد فوڈ پیکچز دئیے گئے اور اس کمی نہیں آنے دیں گے، ہم یہ نہ کہہ سکتے ہیں کہ متاثرین کو 100 فیصد امداد اور وسائل کو وسائل کو یقینی بنایا جا سکے لیکن ہم پوری کوشش کررہے ہیں جو بھی مل جائیں وہ اپنے متاثرہ بھائیوں میں منصفانہ طور پر تقسیم کر سکیں انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت موسمیاتی تبدیلی کیلئیعملی اقدامات کررہی ہیں ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانا اور جنگلات کی تحفظ کیلئے عملی اقدامات کریں گے،
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔