بینظر انکم سپورٹ تنازعہ، شازیہ مری کا مریم نواز اور عظمیٰ بخاری کو جواب
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
ایک بیان میں رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ لوگ اب بھی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں اور امداد کے منتظر ہیں، پیپلز پارٹی عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے، کھوکھلے بیانات پر نہیں، اور جو لوگ جوس کے ڈبوں پر اپنی تصاویر لگا کر ٹک ٹاک بنا رہے ہیں اور اسے ریلیف ورک کہہ رہے ہیں، وہ دراصل سیاست کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ پاکستان کھوکھلے بیانیے کا متحمل نہیں ہو سکتا، اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو عوام کی خدمت پر توجہ دینی چاہیئے، نہ کہ تفرقہ انگیز باتوں پر۔ شازیہ مری نے واضح کیا کہ چیئرمین بلاول بھٹو ہمیشہ سیلاب متاثرین کی مدد پر فوکس کرتے ہیں اور جو لوگ متاثرین کے لیے ریلیف مانگ رہے ہیں، وہ سیاست نہیں کر رہے، پاکستان کے مختلف حصوں میں شدید سیلاب سے ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے ہیں اور ریلیف کے منتظر ہیں، اس دوران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پنجاب حکومت کے درمیان تنازع پیدا ہوگیا ہے، جس کی بنیاد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت متاثرین کو امداد دینے یا نہ دینے کے معاملے پر ہے۔
شازیہ مری نے کہا کہ لوگ اب بھی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں اور امداد کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے، کھوکھلے بیانات پر نہیں، اور جو لوگ جوس کے ڈبوں پر اپنی تصاویر لگا کر ٹک ٹاک بنا رہے ہیں اور اسے ریلیف ورک کہہ رہے ہیں، وہ دراصل سیاست کر رہے ہیں۔ شازیہ مری نے مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت پر زور دیا کہ وہ دکھاوے کے بجائے خدمت پر توجہ دے۔ شازیہ مری نے بتایا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت سے BISP کے ذریعے فوری ریلیف مانگا اور پنجاب حکومت کی تعریف بھی کی، لیکن وفاقی حکومت سے کہا کہ قدرتی آفت میں اپنا کردار ادا کرے۔
پی پی رہنما کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے بجلی کے بلوں میں ریلیف اور زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کا بھی مطالبہ کیا، جسے وزیراعظم شہباز شریف نے تسلیم کیا۔ شازیہ مری نے کہا کہ وزیراعظم کو فوری طور پر BISP کے ذریعے کیش امداد کا اعلان کرنا چاہیئے، جیسا کہ 2022 میں کیا گیا تھا، اور سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت فوری ریلیف کے لیے کامیاب سماجی تحفظ کے اس نظام کو کیوں استعمال نہیں کر رہی۔ سیلاب متاثرین کی مدد کے معاملے پر پیپلز پارٹی اور پنجاب حکومت کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے ہیں، اور عوامی خدمت کے بجائے سیاست کو ترجیح دینے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شازیہ مری نے پیپلز پارٹی پنجاب حکومت نے کہا کہ رہے ہیں ہیں اور
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔