حکومت چینی بحران کا حساب لے، پیکا ایکٹ کے ڈر سے نہیں بولتا: ندیم افضل چن
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
حکومت چینی بحران کا حساب لے، پیکا ایکٹ کے ڈر سے نہیں بولتا: ندیم افضل چن WhatsAppFacebookTwitter 0 27 September, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ حکومت چینی کے بحران کا بھی حساب لے، کمزورآدمی ہوں پیکا ایکٹ کے ڈر سے نہیں بولتا۔صوبائی دارالحکومت میں پی پی سیکرٹریٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ لوگوں کی آواز بننا ہمارا فرض ہے، اس میں اہم کردار میڈیا پرسن ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے اتحادی ہیں جس کا اکثر طعنہ ملتا ہے ، حکومتی اتحاد کے وقت ہمارے درمیان چودہ نکات پر معاہدہ ہوا تھا، دکھی لوگوں کی آواز بننا پیپلز پارٹی کا آئین ہے۔سیکرٹری اطلاعات پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ کرونا آیا تو پی ٹی آئی حکومت نے بارہ سو ارب روپے دیے،مگر کسانوں کو ایک روپہ بھی نہیں دیا گیا، پچھلی بار سیلاب آیا تو کسانوں کو کچھ نہیں ملا ، حق دار کے حق پر آواز اٹھائیں گے۔ندیم افضل چن نے کہا کہ ہمارا اتحاد اس نکات پر تھا کہ ایک سال میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے،اگر لوکل نمائندے ہوتے تو سیلاب سے یہ حال نہ ہوتا ، کیا آئی ایم ایف نے بلدیاتی انتخابات کروانے سے روکا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بار بار کہا گندم کسان کی بیک بون ہے،
کسان کو پیسے نہ دے کر آج گندم ایمپورٹ کر رہے ہے، انڈیا کسانوں کو بیس ہزار پر ایکڑ دیے رہا، وہاں کھاد سستی، بجلی فری ہے ۔سیکرٹری اطلاعات پیپلزپارٹی نے کہا کہ یہ صرف بینظیر انکم سپورٹ کے ڈیٹا کااستعمال بی بی کی فوٹو کی وجہ سے نہیں کر رہے ، ن لیگ انگلیاں توڑنے کی بات کر لے مگر کسان کا سوچے۔ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ لیگی ترجمان نے ٹویٹ کیا کہ پیکا ایکٹ کے تحت میرے خلاف کارروائی کریں گے، بیوروکریسی کی لڑائی اور ٹرانسفر پوسٹنگ پر اس لئے میں بات نہیں کر پا رہا، پیکا ایکٹ کے تحت چینی کے بحران کا بھی حساب لیں، کمزور آدمی ہوں، پیکا ایکٹ کے ڈر سے نہیں بولتا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایشیا کپ فائنل: پاکستان کیخلاف میچ سے قبل بھارتی کوچ کا 2 اہم کھلاڑیوں کی فٹنس پر خدشات کا اظہار ایشیا کپ فائنل: پاکستان کیخلاف میچ سے قبل بھارتی کوچ کا 2 اہم کھلاڑیوں کی فٹنس پر خدشات کا اظہار انسداد دہشت گردی کی عدالت کاعمران خان کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ کو گرفتار کرنے کا حکم پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت؛ بلومبرگ کی رپورٹ میں ہوشربا انکشافات یمن کے قریب ایل پی جی ٹینکر میں پھنسے پاکستانی محفوظ ہیں، جہاز روانہ ہوچکا، دفتر خارجہ بارہ ممالک کا بڑا اعلان: فلسطینی اتھارٹی کے لیے ہنگامی مالیاتی اتحاد قائم سی پیک فیز 2 کا باقاعدہ آغاز، پاک چین شراکت داری تاریخی مرحلے میں داخلCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ ندیم افضل چن بحران کا نے کہا
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔