وزیراعلیٰ کے پی کا حالیہ بیان فرقہ واریت کو ہوا دے گا، آفتاب شیر پائو
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
پشاور(نیوزڈیسک) چیئرمین قومی وطن پارٹی آفتاب احمد شیرپاؤ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا حالیہ بیان فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دے گا۔
آفتاب شیرپاؤ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاک فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، پاکستان کی مسلح افواج ملکی سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا بی آر ٹی پشاور کا دورہ، عام شہری کی طرح بس میں سفر کیا
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان کی وضاحت بھی درست نہیں، سہیل آفریدی کو بطور وزیراعلیٰ صوبے کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
آفتاب احمد شیرپاو نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو دانش مندی اور ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔