عمران خان جلسوں سے آزاد نہیں ہوں گے، فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا واضح پالیسی دیں، اداروں کے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ، ایک بندہ ایک بیان دیتا ہے، دوسرا کچھ اور کہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا مسئلہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ یہ جلسہ کرنے کا موقع نہیں، جلسوں سے عمران خان بانی پی ٹی آئی آزاد نہیں ہوں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جلسہ ٹیکس پیئرز کے پیسوں پر بوجھ ہے، جلسے کے لیے لوگوں کو کرایے پر لایا جائے گا۔ فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور واضح پالیسی دیں، اداروں کے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ، ایک بندہ ایک بیان دیتا ہے، دوسرا کچھ اور کہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا مسئلہ ہے، حکومت کی طرف سے واضح پالیسی نظر نہیں آرہی، صوبہ خود مختار ہے وہ واضح پالیسی دیں۔ گورنر کے پی کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگوں نے قربانی دی ہے، وزیر اعلیٰ کو خود پتہ نہیں کیا چل رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: واضح پالیسی کے ساتھ نے کہا
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔