مصنوعی میٹھے سے یادداشت اور توجہ کو لاحق پوشیدہ خطرات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ڈائٹ مشروبات اور شوگر فری گم میں پائی جانے والی کم یا زیرو کیلوری مٹھاس کے زیادہ استعمال سے یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے کمی ہو سکتی ہے، جس سے طویل مدت میں اس کے اثرات پر سوالات پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں۔یہ تحقیق برازیل کی سائو پالو یونیورسٹی (Sao Paulo University)کے سائنسدانوں نے کی، جس میں آٹھ سال کے دوران 12 ہزار سے زائد بالغ افراد پر تحقیق کی گئی، یہ ایک وسیع تحقیقی منصوبہ ''برازیلی لمبی مدت بالغ صحت کا مطالعہ ''کے تحت ہوا، اور اسے علمی جریدے Neurology میں شائع کیا گیا۔
محققین نے تمام شرکاء، جو کم از کم 35 سال کے تھے، ان سے ان کی غذائی عادات کے بارے میں تفصیلی سوالات کیے اور ان کے سات مختلف قسم کے مصنوعی مٹھاس، جیسے اسپارٹیم (Aspartame)، سکیرین (Saccharin)، ایریٹھرٹول (Erythritol)، زائیلٹول (Xylitol) اور دیگر کے استعمال کی مقدار معلوم کی۔شرکاء کا روزانہ ان مصنوعی مٹھاس کا اوسط استعمال تقریباً 92 ملی گرام تھا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ 60 سال سے کم عمر افراد میں مصنوعی مٹھاس کے زیادہ استعمال سے دماغی افعال، خاص طور پر زبانی روانی اور عمومی ادراکی صلاحیتوں (یادداشت، توجہ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت) میں تیزی سے کمی واقع ہوتی ہے۔جبکہ بڑی عمر کے افراد (60 سال اور اس سے زائد) میں، مصنوعی مٹھاس کے استعمال اور دماغی صلاحیتوں میں وقت کے ساتھ تبدیلی کے درمیان کوئی واضح تعلق ظاہر نہیں ہوا۔چاہے ذیابیطس کے مریض ہوں یا نہ ہوں، ایسا لگتا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کے زیادہ استعمال سے یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت میں تیزی سے کمی ہوتی ہے۔سب سے زیادہ دماغی صلاحیتوں میں کمی کے ساتھ منسلک مصنوعی مٹھاس میں اسپارٹیم (Aspartame)، سکیرین (Saccharin)، ایسسلفیم کے (Acesulfame K)، ایریتھرٹول (Erythritol)، سوربٹول (Sorbitol) اور زائیلٹول (Xylitol) شامل ہیں، جو عام طور پر ڈائٹ سافٹ ڈرنکس، شوگر فری مٹھائی، گم، پروٹین بارز اور بعض ادویات میں استعمال ہوتے ہیں۔تحقیق میں شریک ڈاکٹر کلاڈیا کیمیا سُوئیموٹو (Dr Claudia Kemia Suemoto) نے بتایا کہ یہ متبادل عموماً اُن لوگوں کے لیے صحت مند آپشن کے طور پر فروخت کیے جاتے ہیں جو وزن یا خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، لیکن تحقیق کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ یہ دماغ کی صحت پر غیر متوقع منفی اثرات بھی ڈال سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا: عام طور پر کم یا صفر کیلوری والی مٹھاس کو شکر کے صحت مند متبادل کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن ہمارے نتائج بتاتے ہیں کہ وقت کے ساتھ کچھ مٹھاس کے دماغ کی صحت پر منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔تحقیق کی شریک محققہ نے کہا کہ یہ مطالعہ مشاہداتی نوعیت کا تھا، اس لیے یہ براہِ راست یہ ثابت نہیں کرتا کہ مصنوعی مٹھاس دماغی صلاحیتیں کم کرتی ہے، کیونکہ غذائی عادات، ورزش یا صحت جیسے دیگر عوامل بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔تاہم، وہ سمجھتی ہیں کہ نتائج مزید تحقیقات کے لیے کافی ہیں اور لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے بھی کہ وہ ان مصنوعی مٹھاس کی زیادہ مقدار استعمال کرنے میں احتیاط کریں، خاص طور پر نوجوانوں میں جو انہیں روزانہ اور کئی سال تک استعمال کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ، تحقیق سے نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ مصنوعی مٹھاس کے صحت پر اثرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش میں ایک نیا اضافہ ہے، جو نہ صرف وزن یا خون میں شوگر کی سطح پر بلکہ دماغ پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔جب تک واضح معلومات دستیاب نہیں ہو جاتیں، یہ سمجھداری ہوگی کہ ان مصنوعات کے استعمال کو محدود کیا جائے اور جہاں ممکن ہو قدرتی اور غیر مصنوعی غذا پر توجہ دی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مصنوعی مٹھاس کے سکتے ہیں
پڑھیں:
موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے محفوظ استعمال کے حوالے سے اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی رجسٹرڈ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قابلِ سزا جرم ہے اور اس کے سنگین قانونی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے نام پر رجسٹرڈ سم غیرقانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہے تو متعلقہ صارف کو بھی قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے شہری اپنی سم کسی دوسرے فرد کے استعمال کے لیے ہرگز نہ دیں۔
اتھارٹی نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر یہ تصدیق کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں رجسٹرڈ ہیں۔ اس مقصد کے لیے cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر (بغیر ڈیش کے) 668 پر ایس ایم ایس کر کے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
اگر کسی نامعلوم یا غیر ضروری سم کی نشاندہی ہو تو اسے فوری طور پر بلاک کرایا جائے۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے