اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 27 ستمبر2025ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نےکہا ہے کہ سیاحت نہ صرف معاشی ترقی بلکہ پائیدار ترقی، معاشرتی ہم آہنگی اور بین الثقافتی روابط کے فروغ کا بھی مؤثر ذریعہ ہے۔ ہفتہ کو عالمی یومِ سیاحت کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ اس سال کا تھیم ’’سیاحت اور پائیدار تبدیلی‘‘ دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ سیاحت کا شعبہ مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک ذمہ دار، مؤثر اور دیرپا ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا وہ خطہ ہے جو قدرتی حسن، ثقافتی ورثے، تاریخی مقامات، اور مہمان نوازی سے مالا مال ہے۔ یہاں کے بلند و بالا پہاڑ، سرسبز وادیاں، دریا، جھیلیں اور قدیم تہذیبوں کے آثار دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کشش رکھتے ہیں لیکن ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ماحولیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کا پگھلاؤ اور شدید موسمی حالات ہمارے قدرتی ورثے کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، ہمیں ایک جانب جہاں موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونا ہے وہیں امن و امان کی صورتحال کو بھی بہتر بنانے کے لئے کام کرنا ہوگا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری کے اس مؤقف کی تائید کی کہ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو ماحولیاتی بگاڑ نہ صرف ہمارے سیاحتی مقامات کو متاثر کرے گا بلکہ مقامی معیشت اور روزگار کے مواقع بھی محدود ہو جائیں گے۔ گرین سرٹیفیکیشن، کمیونٹی بیسڈ ٹورازم اور ماحولیاتی سیاحت کی طرف سنجیدہ توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سیاحت کا فروغ نہ صرف اقتصادی ترقی بلکہ خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے، انتہاپسندی کے خلاف مثبت بیانیہ قائم کرنے اور پائیدار امن کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کو اقوام متحدہ کے ترقیاتی اہداف (SDGs) سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے ہونگے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟