پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کو کتنے ارب کا پیکج دے گی؟پلان تیار
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
لاہور:
پنجاب حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کو امداد کے لیے کتنے ارب کا پیکج دیا جائے گا؟ فیصلہ کرلیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سیلاب متاثرین کے نقصانات کے ازالے کے لیے 500 ارب کا ریلیف پیکج تیار کیا گیا ہے، 500 سو ارب سے تین دریاؤں کے کناروں پر سیلاب سے متاثرہ لاکھوں افراد مستفید ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق متاثرین کو رقوم کی ادائیگی پنجاب حکومت کے ریلیف کارڈ کے ذریعے کی جائے گی، گھروں کے متاثرین کو مکمل نقصان پر 10 لاکھ روپے اور جزوی نقصان پر پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
سیلاب سے 63200 پکے اور 309684 کچے مکانات متاثر ہوئے، گائے اور بھینس کے ضیاع کا بھی ازالہ کیا جائے گا، متاثرہ کاشت کاروں کو فی ایکٹر 20 ہزار روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، فصلوں کے نقصانات پر بھی داد رسی کی جائے گی، سیلاب متاثرہ علاقوں میں سڑکوں، پلوں اور انفرا اسٹرکچر کی بحالی کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متاثرین کو
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔