مریم نواز کی سادگی اور خدمت سیلاب متاثرین کے دلوں میں گھر کر گئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
پنجاب میں حالیہ سیلاب نے متعدد اضلاع کو بری طرح متاثر کیا ہے، جہاں لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے اور اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ اس تباہی کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عوام کی خدمت کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے متاثرہ علاقوں کے کئی دورے کیے۔
میں اس وقت اپنی خوشی کا اظہار ہی نہیں کرپارہی اور مجھے یقین نہیں آرہا کہ میرے سامنے مریم نواز صاحبہ موجود ہونگی۔#ElectroBusInDGKhan pic.
— PMLN (@pmln_org) September 25, 2025
وہ نہ صرف ریلیف کیمپوں کا جائزہ لے رہی ہیں بلکہ متاثرین کے ساتھ براہِ راست بیٹھ کر ان کے دکھ درد میں شریک بھی ہو رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ان کی طرزِ زندگی، لباس، جیولری، ہیڈ بیگ اور جوتوں پر تنقید کے باوجود مریم نواز نے عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور سیلاب متاثرین کو یہ احساس دلایا کہ وہ ان میں سے ایک ہیں۔
متاثرین کے درمیان گھل مل جانامریم نواز نے سیلاب زدہ اضلاع میں بار بار دورے کیے اور ریلیف آپریشنز کا ذاتی طور پر جائزہ لیا۔ ان دوروں میں وہ سادہ لباس، سر پر دوپٹہ اوڑھے اور عام جوتوں میں نظر آئیں۔
یہ بھی پڑھیں:کیا مریم نواز کا بیگ پاکستانی ڈیڑھ کروڑ روپے کا ہے؟ سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی
انہوں نے متاثرین کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا، کھانا بانٹا، بہاولنگر میں دیہی خواتین کے ساتھ کپڑے سیے اور کشیدہ کاری کی مہارت دکھائی۔
انہوں نے بچوں کو گود میں اٹھا کر ماں جیسا پیار دیا، فلڈ ریلیف کیمپ میں پیدا ہونے والے بچوں کے والدین سے ملاقات کی اور عارضی کلاس رومز میں بچوں سے ملی۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’مجھے خوشی ہوتی ہے اپنی عوام کی خدمت کر کے، میں تو آئی ہی عوام کی خدمت کرنے ہوں‘۔
یہ چادر مجھے ڈیرہ غازی خان کے ایک گاؤں سے ایک بزرگ ماں نے اپنے ہاتھوں سے بنا کر بھیجی اور کہا کہ مریم کو دے دینا اور کہنا میں نے بہت پیار سے اس پر کڑھائی کی ہے۔ یہی محبتیں مجھ پر قرض ہیں۔ pic.twitter.com/D2toUK0gnf
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) September 25, 2025
سیلاب متاثرین اس بات پر خوش ہوئے کہ نواز شریف کی بیٹی بھی عام خواتین کی طرح سلائی کڑھائی جانتی ہیں۔
ریلیف کیمپوں میں موجود لوگوں نے یہ دیکھ کر بھی مسرت کا اظہار کیا کہ مریم نواز وہی کھانا کھا رہی ہیں جو عوام میں تقسیم ہو رہا تھا۔ ان کا یہ طرزِ عمل متاثرین کے دلوں کو چھو گیا۔
سادہ زندگی پر اصرارصوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ مریم نواز لان کا 7 سے 8 سو روپے والا سوٹ پہنتی ہیں اور جوتے بھی عام لوکل مارکیٹ سے خریدتی ہیں۔ ان کے مطابق مریم نواز کو سادہ کپڑے پسند ہیں اور وہ زیادہ تر سادہ لباس ہی پہنتی ہیں۔
اگرچہ وہ برانڈڈ کپڑے بھی استعمال کرتی ہیں، مگر اب زیادہ تر سادہ کپڑوں کو ترجیح دیتی ہیں۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق، مریم نواز کیا پہن رہی ہیں اس کے لیے انہیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ ان پر مہنگے کپڑوں اور جوتوں کی تنقید بالکل غلط ہے کیونکہ وہ ہمیشہ سادہ لباس میں عوام کے درمیان نظر آتی ہیں۔
خدمت، فیشن سے بڑھ کرمریم نواز کی توجہ عوام کی خدمت پر ہے، نہ کہ فیشن پر۔ یہی سادگی اور عوام کے ساتھ قربت ان کی شخصیت کو سیلاب متاثرین کے دلوں میں جگہ دلا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برانڈ پنجاب خدمت سیلاب سیلاز زدگان عظمیٰ بخاری فیش مریم سادگی مرین نواز وزیر اعلیٰ پنجاب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیلاب سیلاز زدگان فیش مریم سادگی مرین نواز وزیر اعلی پنجاب سیلاب متاثرین عوام کی خدمت متاثرین کے مریم نواز رہی ہیں کے ساتھ
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔