پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا ملائیشیا کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد پر اظہارِ تشکر
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
وزارتِ خارجہ نے ملائیشیا کی حکومت اور عوام کا پاکستان میں جاری سیلاب متاثرین کی امدادی سرگرمیوں کے لیے بروقت اور فراخدلانہ تعاون پر گہری قدردانی کا اظہار کیا ہے۔
Deeply appreciate the Government and people of Malaysia for generous gesture of extending timely support to Pakistan's ongoing flood relief efforts.
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 26, 2025
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، ملائیشیا کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ مدد نہ صرف پاکستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظہر ہے بلکہ عالمی سطح پر مشکل گھڑی میں تعاون کی اہم مثال بھی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بار بار آنے والی موسمیاتی تبدیلی سے جڑی آفات اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ دنیا کو مل کر اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امداد پاکستان سیلاب ملیشیا وزارت خارجہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان سیلاب ملیشیا
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔