میرے گھر پر فائرنگ کے معاملے کو اسمبلی میں اٹھانا نااہلی کا ثبوت ہے، گورنر بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
ژوب میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے اپنے گھر پر فائرنگ سے طلباء کے زخمی ہونے کے معاملے کو اسمبلی میں اٹھانے پر کہا کہ ایک پولیس اہلکار کی غلطی کو اسمبلی فلور پر پیشں کرنا ایم پی اے ژوب کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ الیکشن میں ہار جیت سیاست کا حصہ ہے۔ عوام کی خدمت میرا مشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ژوب کے عوام نے ہر بار ووٹ دیکر اعتماد کیا ہے۔ میری سیاست صرف ژوب تک محدود نہیں، بلکہ پورے پاکستان کی سطح پر سیاست کر رہا ہوں۔ یہ بات انہوں نے ژوب میں کلی اپوزئی نوجوانان کمیٹی کے زیر اہتمام شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی کسی کے ذاتی معاملات میں مداخلت نہیں کیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سابق صوبائی امیر مولانا محمد خان شیرانی اور پختونخوا میپ کے سابق ایم این اے مرحوم عبدالرحیم ایڈووکیٹ سیاست اور الیکشن کے دوران ہمارے مخالف تھے۔ لیکن الیکشن کے بعد ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے۔ کسی بھی کام میں رکاوٹ نہیں بنے آور سابق صوبائی وزیر مھٹا خان کاکڑ کے کاموں میں مداخلت نہیں کی۔ لیکن بدقسمتی سے ایم پی اے ژوب نمائندگی کی اہلیت کے قابل نہیں ہیں۔ اپنی نااہلی کا ملبہ دوسروں پر ڈال رہے ہیں۔
گورنر بلوچستان نے اپنے گھر پر فائرنگ سے طلباء کے زخمی ہونے کے معاملے کو اسمبلی میں اٹھانے پر کہا کہ ایک پولیس اہلکار کی غلطی کو اسمبلی فلور پر پیشں کرنا ایم پی اے ژوب کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس کا صوبائی وزیر صحت بخت کاکڑ نے اسمبلی فلور پر جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ژوب کی ترقی و خوشحالی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ژوب میں تیس سال پہلے صرف ایک ماڈل ہائی اسکول موجود تھا۔ اپنے دور حکومت میں 37 ہائی اسکول منظور کرائیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ژوب میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ تکمیل سے ژوب ترقی کے دور میں شامل ہوگا۔ انہوں نے کلی اپوزئی کے لیے ایمبولینس، سکول بس، بجلی کے کھمبے اور ٹرانسفارمر، سڑکوں کی بلیک ٹاپ، مشترکہ واٹر سپلائی، دو عدد بڑے بور، پروٹیکشن وال دینے کا وعدہ کیا۔ تقریب سے کلی اپوزئی ملک شیراب مندوخیل، سابق بی ڈی اے چیئرمین شہباز خان مندوخیل، نادر خان مندوخیل، اکبر خان مندوخیل، نور خان مندوخیل، اعظم خان مندوخیل، حبیب الرحمن مندوخیل، ضیا الرحمن نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گورنر بلوچستان انہوں نے کہا کہ خان مندوخیل کو اسمبلی نااہلی کا ژوب میں
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔