Express News:
2026-07-24@04:33:59 GMT

پاک سعودی دفاعی معاہدہ

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

اس صدی کا اہم واقعہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس معاہدے کے تحت ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور ہوگی اور کسی بھی ملک پر بیرونی مسلح حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا جب کہ جارحیت کی صورت میں دونوں ممالک دشمن کو مشترکہ طور پر بھر پور جواب دیں گے۔

 یہ اس قدر بڑا اور اہم واقعہ ہے کہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس خبرکو بریکنگ نیوزکے طور پر لیا ہے۔ بظاہر اس کی چند ایک وجوہات ہیں، مثلاً اسرائیل اس وقت جس طرح طاقت کے نشے میں غزہ کو کچلتا ہوا، اپنے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کا کھلے عام اظہارکرتے ہوئے نہ صرف آگے بڑھ رہا ہے بلکہ اس سلسلے میں کسی کو خاطر میں نہیں لا رہا ہے، یہاں تک کہ قطرکو بھی نہیں بخشا۔ پورے عرب میں کوئی بھی اتنی قوت نہیں رکھتا کہ اس کی طاقت کو چیلنج کر سکے۔

اس تناظر میں پاکستان اور سعودی عر ب کے درمیان ہونے والا معاہدہ دراصل اسرائیل کی راہ میں نہ صرف ایک بڑی رکاوٹ بن گیا ہے بلکہ قطر وغیرہ جیسے ممالک نے بھی پاکستان کے ساتھ اگر اسی قسم کے دفاعی معاہدے کر لیے تو اسرائیل کے لیے آیندہ مزید مشکلات پیش آسکتی ہیں اور اگر ایسا ہوا تو یہ غیر متوقع اور غیر منطقی نہیں ہوگا۔ 

کیونکہ اسرائیل نے قطرکی حدود میں حملہ کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ برے وقت میں کسی بھی عرب ملک کو اسرائیل کے حملوں سے کوئی طاقت بھی محفوظ نہیں رکھ سکتی اور امریکا بھی ان ممالک کا ساتھ نہیں دے گا۔

قطر پر اسرائیلی حملے نے تمام عرب ممالک کو بہت واضح انداز میں یہ سمجھا دیا تھا کہ اب تمھیں کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔ ایسی صورتحال میں ایک یہی راستہ بچتا تھا کہ یہ عرب ممالک کسی با اعتماد اور طاقتور ملک سے دفاعی معاہدہ کر لیں اور زمینیں حقائق یہی ہیں کہ ایسا ملک اگر دنیا میں کوئی ہے تو وہ پاکستان ہے۔

صرف مسلم دنیا نے ہی نہیں، تمام عالمی طاقتوں نے بھی اس معاہدے کو نہایت سنجیدگی سے لیا ہے کیونکہ سب کو علم ہے کہ سعودی عرب سے پاکستان کا سیا سی رشتے سے بھی بڑھ کر ایک اور مضبوط رشتہ ہے اور وہ ہے ’’ اسلام۔‘‘ اور یہ حقیقت تاریخ بھی بیان کرتی ہے یعنی اگر ہم تقسیم ہند سے قبل کی مسلمانوں کی تحاریک کا جائزہ لیں تو ان سب کا مرکزی تصور ایک ’’ امت‘‘ کا تھا یعنی تمام تحاریک میں امت مسلمہ کے لیے جدوجہد یا جہاد کیا گیا۔

ایسی تاریخ دنیا کے کسی کو نے میں نہیں ملتی حتیٰ کہ یہاں علی برادران جیسے رہنما ایک جانب آزادی کے لیے تحریک چلاتے تو دوسری جانب ترکیہ کی خلافت کے لیے بھی میدان عمل میں نظر آتے ہیں۔ یہ وہ زمینیں حقائق ہیں کہ جس کے تناظر میں نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکا سمیت بہت سی طاقتیں اس معاہدے پر سخت فکر مند ہیں۔

یوں دیکھا جائے تو اب دفاعی لحاظ سے سعودی عرب پاکستان ہے یعنی سعودی عرب ایک عالمی ایٹمی قوت کا حامل ملک بن چکا ہے۔

ایسے میں اگر دیگر عرب ریاستیں بھی پاکستان کے ساتھ اس قسم کے معاہدات کر لیتی ہیں (جن کی باز گشت سنائی بھی دے رہی ہے) تو پھر مشرق وسطیٰ کی پوری سیاسی صورتحال پر بھی اس کا اثر پڑے گا کیونکہ پھر عرب ریاستیں اپنی کمزوری کو نہیں بلکہ طاقت کو مدنظر رکھ کر اپنے سیاسی فیصلے کریں گی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا مطلب صرف اسرائیل کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ امریکا کی سیاسی پالیسی کو بھی مزاحمت کا سامنا ہوگا جس کے تحت وہ اب تک اپنے مفادات کے فیصلے با آسانی کرتے آیا ہے۔ 

اگر عرب کی کچھ اور ریاستیں بھی پاکستان کے ساتھ اس قسم کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو پھر مشرق وسطیٰ کی سیاسی صورتحال پر بھی لازمی اثر پڑے گا اور ایک نیا منظر نامہ ابھرے گا۔

اس معاہدے کے بعد اگر مزید کسی عرب ریاست سے معاہدہ نہیں ہوتا تو پھر سیاسی منظر نامے میں کسی بڑی سیاسی تبدیلی کی توقع کرنا درست نہیں ہوگا بلکہ اسرائیل کو ایک خاموش پیغام تک والی صورتحال جوں کی توں رہی گی، البتہ اسرائیل کی جانب سے اگرگریٹر اسرائیل کی موجودہ پالیسی اسی طرح تیزی سے آگے بڑھی تو پھر ایک بڑی ہلچل ضرور ہوگی، کیونکہ سعودی عرب اور پاکستان دو ملک ہی نہیں، ان کے عوام ایک امت کا نظریہ بھی رکھتے ہیں۔

پاکستانی عوام تو ایک ’’ امت‘‘ کا نظریہ ہمیشہ سے ہی تھامے ہوئے ہیں اور دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں پر کڑا وقت آئے تو پاکستانی سب سے آگے آگے کھڑے ہوتے ہیں اور اس کی وجہ یہاں کی وہ مٹی ہے جس سے پیدا ہونے والے رہنما خلافت عثمانیہ کے تحفظ کی بھی تحریک چلاتے ہیں۔ 

یہی وہ مٹی ہے جس سے شاعر بھی علامہ اقبال جیسے پیدا ہوتے ہیں جن کا پیغام ہی ’’امت‘‘ کا ہوتا ہے۔ اقبال نے یہاں کے عوام کو ہر سطح پر نہ صرف رہنمائی فراہم کی بلکہ حالات حاضرہ کے مطابق شعور دیا۔ اقبال کا کہنا تھا کہ

قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں

جذب باہم جو نہیں، محفل انجم بھی نہیں

یعنی اقبال نے اپنی قوم کو مغربی نظریہ قوم پرستی میں دفن ہونے سے روکا اور یہ شعور دیا کہ۔

یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمز مسلمانی

اخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی

بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا

نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی

 یوں دیکھا جائے تو پاک سعودی دفاعی معاہدہ اقبال کے مذکورہ بالا اشعارکی تفسیر نظر آتی ہے۔ اس معاہدے کی سب سے حیرت انگیز اور خوش کن بات جو نظر آتی وہ یہ ہے کہ ایک جانب یہ معاہدہ نہایت خاموشی و راز داری سے طے پاگیا جس میں امریکا سمیت کسی بڑی طاقت کے کسی بھی قسم کے ردعمل کو نظر انداز کردیا گیا۔ 

دوسری جانب یہ کہ اس میں پاکستانی حکومت اور فوج کی مکمل ہم آہنگی نظر آئی۔ گویا اس معاملے پر فریقین کی تمام اکائیاں ایک ہی پیج پر نظر آئیں اور یہی وہ سب سے اہم بات ہے کہ جس کا مطالبہ ہمارے رہنماؤں اور دانشوروں کو کرنا چاہیے تھا، وہی فیصلہ ہماری فوج اور حکومت نے بروقت کر لیا۔

یہ وہ فیصلہ ہے کہ جس نے عرب ممالک کو بھی تقویت بخشی ہے، ہمارے روحانی مراکزکو مزید سیکیورٹی دی ہے بلکہ ہمارے وطن پاکستان کو بھی مضبوط ترکیا ہے، اب ہم بھی اکیلے نہیں۔ گویا اس میں صرف عرب کا نہیں، ہم سب کا بھلا ہے۔ اس وقت پوری امت مسلمہ کی سوچ یہی ہے کہ اس معاہدے سے اسرائیل کے عزائم کو سخت نقصان پہنچا ہے اور قوی امید ہے کہ امت مسلمہ اس سے مضبوط ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دفاعی معاہدہ اسرائیل کے اس معاہدے کو بھی تو پھر کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم