Jasarat News:
2026-07-24@04:42:14 GMT

عملی اتحاد کا پہلا قدم

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250927-03-4

 

غزالہ عزیز

پاکستان اور سعودی عرب میں دفاعی معاہدہ اسلامی دنیا کا ایک اہم معاہدہ ہے اور انوکھا بھی۔ اس معاہدے کے تحت ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ دوحا میں اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملے کے بعد کیا گیا۔ اس معاہدے کے بعد سعودی وزیر دفاع نے اپنے ایکس پروگرام میں پیغام دیا ’’سعودیہ اور پاکستان… جارح کے مقابل ایک ہی صف میں ہمیشہ اور ابد تک‘‘۔ یہ جامع اور مختصر اظہار ہے۔ دوحا پر حملہ سارے مشرق وسطیٰ کے لیے قابل تشویش تھا۔ اسرائیل اس سے پہلے فلسطین، قطر، ایران، لبنان، شام اور یمن پر حملے کرچکا ہے۔ ہر حملے کے بعد اس نے اس طرح کے مزید حملوں کی دھمکی بھی دی۔ ڈھٹائی کے ساتھ وضاحت کرتے ہوئے اسرائیل کا حق دفاع قرار دیا۔ دوحا پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ کے حکمران اپنی سلامتی کے لیے کسی دوسرے کی طرف دیکھنے کے لیے مجبور ہوئے ایسے میں پاکستان انہیں قابل اعتماد اور مضبوط محسوس ہوا جس کا ثبوت مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ میں وہ دیکھ چکے تھے۔ چین کی پشت پناہی اور بھی زیادہ اطمینان بخش تھی۔ یہ معاہدہ ان حالات میں ایک اسٹرٹیجک شفٹ ہے جس سے سعودی عرب کی سیکورٹی تو مضبوط ہوگئی ہے ساتھ پاکستان بھی مضبوط ہوگا۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کی تشکیل 1960ء میں ہوئی جب شاہ فیصل سعودی عرب اور صدر ایوب خان پاکستان کی قیادت کررہے تھے، اس وقت سعودی فضائیہ کی تربیت میں مدد فراہم کی گئی۔ پھر 1967ء میں دفاعی تعاون کا معاہدہ ہوا جس میں پاکستانی افسران نے ٹرینر اور مشاورت کی خدمات انجام دیں، ہزاروں سعودی فوجی پاکستان میں تربیت پاتے رہے۔ 2017ء میں پاکستان کے سابق جنرل راحیل شریف نے اسلامی عسکری قیادت برائے انسداد دہشت گردی کی کمان سنبھالی۔ اب یہ معاہدہ بدلتے ہوئے علاقائی ماحول میں سعودی کے لیے قابل اعتماد دفاع کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرے گا۔ اس معاہدے کے تحت 2030ء تک سعودی عرب اپنی خود انحصاری کے لیے پاکستان کی آزمودہ فوجی مہارت سے فائدہ اٹھائے گا۔ اس معاہدے نے ساری دنیا کو حیران کیا ہے اور حیرانی اس بات پر زیادہ ہے کہ کیا مشرق وسطیٰ کے تحفظ کے ضامن کے طور پر مغرب کا کردار سائیڈ لائن کردیا گیا ہے۔ دراصل عرب ممالک کی اس سوچ کو یہ زاویہ دینے میں خود اسرائیل اور امریکا ہی کا کردار ہے۔ کنگ فیصل ریسرچ سینٹر کے تجزیہ کار عمر کریم کہتے ہیں کہ ’’یہ واضح ہے کہ قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد پہلے سے طے سیکورٹی انتظامات جس کے تحت امریکا کچھ خلیجی ممالک کی سیکورٹی کا ضامن ہے وہ اب موثر طریقے سے کام نہیں کررہا۔ وہ سیکورٹی کے ضامن کے طور پر کام نہیں کرپایا اور کہا گیا کہ اسرائیلی حملے میں امریکا ملوث ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کو اپنے آپ کو اس حملے سے علٰیحدگی جتانے کے لیے بار بار بیان دینے پڑے جن پر یقینا یقین مشکل تھا۔ لہٰذا ایسے میں اسرائیلی حملوں سے بچائو کے لیے سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کا راستہ چنا۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت اور دفاعی قابلیت کے باعث یہ معاہدہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو بڑھائے گا۔ اگرچہ دفاعی سہولتوں کی فراہمی کی تفصیل نہیں دی گئی، لیکن سعودی عرب کے لیے جوہری تحفظ کا ابہام بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار بھی ہیں اور ان کی ترسیل کا نظام بھی ہے۔ خاص طور سے ایسا نظام جو اسرائیل تک مار کرسکتا ہے۔ ظاہر ہے علاقے میں اسرائیل کے جارحانہ حملوں کے باعث یہ بہت اہم ہے۔ قطر سے پہلے اسرائیل نے کئی ممالک کو نشانہ بنایا لیکن قطر پر حملہ اس لیے ان سب سے مختلف تھا کہ قطر امریکی اتحادی ہے اور قطر میں امریکی ائربیس موجود ہے جہاں دفاعی نظام ہے۔ اسرائیلی حملے کے بعد ظاہر ہے امریکا کی جانب سے دی گئی سیکورٹی کی ضمانتوں کی کیا وقعت رہ جاتی ہے۔ لہٰذا یہ اسرائیل کے اس اقدام کے بعد بھی سمجھا جارہا ہے کہ دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک بھی امریکا پر اعتماد کے لیے تذبذب کا شکار ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں کچھ اور ریاستیں پاکستان کی طرف متوجہ ہوں۔ مشرق وسطیٰ کی ریاستیں دفاعی نظام اور ہتھیار تو رکھتی ہیں لیکن وہ سب امریکا کے تیار کردہ ہیں اور انہیں آپریشنل رکھنے کے لیے امریکی سرپرستی ضروری ہے۔ یہ سارے نظام اسرائیل کے حملے کے وقت خاموش تھے، آگے بھی وہ کس وقت خاموش رہیں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ لہٰذا دنیا پاکستان اور سعودی عرب کے دفاع معاہدے کو کچھ اس نظر سے دیکھ رہی ہے کہ ریاض کے مالی وسائل کو پاکستان جیسی ایٹمی قوت رکھنے والی فوج سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اسرائیل اور اس کے اتحادی انڈیا کے لیے یہ اچھی خبر نہیں بلکہ پریشانی کی بات ہے کہ یہ اسلامی اتحاد کا پہلا مظاہرہ اور پہلا قدم ہے۔

غزالہ عزیز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حملے کے بعد پاکستان کے پاکستان کی اس معاہدے یہ معاہدہ کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام

یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔

ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم