موضوع: سوڈان میں یو اے ای نواز گروہوں کی نسل کشی
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں تازہ ترین مسائل کے بارے میں نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کی جاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز تجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع: سوڈان میں یو اے ای نواز گروہوں کی نسل کشی
مہمان تجزیہ نگار: سید ناصر عباس شیرازی ( مرکزی رہنما ایم ڈبلیو ایم، سربراہ سینٹر فار پاک گلف اسٹڈیز)
میزبان: سید انجم رضا
پیش کش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو و اہم نکات:
سوڈان میں وسائل پر قبضے کی لڑائی بنیادی طور پر اس کے سونے اور تیل جیسے قدرتی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ہے
یہ لڑائی ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) اور سوڈانی فوج (SAF) کے درمیان ہے، جو ملک پر اقتدار اور وسائل کے لیے لڑ رہے ہیں
افریقی ممالک میں سوڈان اپنے وسائل اور قدرتی ذخائر کے خزانے کی بنا پہ سرمایہ دار طاقتوں کے لئے بہت اہم ہے
سوڈان کے سونے، تیل اور دیگر معدنیات جیسے وسائل پر کنٹرول اس تنازعے کا ایک اہم سبب ہے۔
ماہرین ارضیات کے مطابق پاکستان اور افغانستان بھی نایاب زمینی وسائل سے مالا مال ہیں
امریکہ کی دلچسپی سوڈان میں سونے کی کانوں، زرعی زمینوں اور بحری بندرگاہوں میں ہے۔
سوڈان کی اس خانہ جنگی میں بیرونی قوتوں کے مفادات گہرے ہیں
یو اے ای امریکی مفادات کا آلہ کار بن کر سوڈان میں نسل کشی کا مرتکب ہورہا ہے
متحدہ عرب امارات کھلے یا خفیہ طور پر ری• پڈ سپورٹ فورسز کی مدد کر رہا ہے
متحدہ عرب امارات کی ہوس سوڈان کے سونے کے ذخائر میں سے اپنا حصہ وصول کرنا ہے
امر یکا اور اس رائیل بھی اس خانہ جنگی یا کشیدگی میں اپنا حصہ وصولنے میں سرگرم عمل ہیں
اس رائیلی انٹیلی جنس نے ماضی میں ری• پڈ کے قائدین سے براہِ راست رابطے کیئے ہیں
اطلاعات کے مطابق تل ابیب نے قاہرہ کے راستے دونوں فریقین پر اثر ڈالنے کی متعدد کوششیں کیں
سوڈان میں مفادات کی جنگ "نیو کالونی ازم" کے عنوان سے استعماری طاقتیں برپا کئے ہوئے ہیں
مفادات کی اس جنگ کا اصل ایندھن غریب عوام کا خون ہے، سوڈان اس وقت ایک خوفناک خانہ جنگی سے گزر رہا ہے۔
چند دنوں میں سوڈان میں ہزاروں افراد مارے گئے ، کئی لاکھ بےگھر ہو چکے ہیں، کئی علاقوں میں قحط کی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے
اس وقت سوڈان میں ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی شدید ضرورت ہے
مغربی استعمار لبرل ازم کے روپ میں آج بھی صلیبی جنگوں کی سی ذہنیت کا مظاہرہ کررہا ہے
غ ز ہ میں مسلمانوں کی نسل کشی کو لبرل ازم آئیڈیالوجی کے روپ میں جائز قرار دیا جاتا ہے
اوراس کا سب سے بڑا ثبوت صیہونیوں کی غاصبانہ سوچ کی فلسطین پہ قبضہ کی حمایت ہے
ماضی قریب میں امریکی صدر کا ۲۰۰۶کی ح ز ب اللہ اور اسرائیل جنگ کو صلیبی جنگ کی طرح کہنا
آج بھی بظاہر خو ش نما انسان دوست نعروں کی آڑ میں مغربی استعمار اپنے مذموم عزائم پورے کرتا ہے
سوڈان کی خانہ جنگی کو بھی ٹرمپ مسیحی قتل عام کہہ کر اسلامی شدت پسندوں کے خلاف ملٹری آپریشن کی بات کرتا ہے
حالانکہ اسلامی شدت پسندی کے نام پہ افغانستان، شام ،لیبیا، عراق میں تنظیمیں امریکہ نے ہی بنائی تھیں
ہیلری کلنٹن کا ا فگانستان میں جہاد کے نام پہ فساد کرنے کااعترافی بیان موجود ہے
ط ا ل ب ان اور د ا ع ش کی پشت پناہی امریکہ کرتا رہا ہے
سوڈان میں بھی جمہوری حکومت ختم کراکے ملٹری ڈکٹیٹر شپ کی حمایت امریکہ نے کی تھی
یو اے ای کے ذریعہ امریکہ سوڈان میں اپنے مذموم عزائم پورا کرنے میں مشغول ہے
سوڈانی نمائندے نے اقوام متحدہ میں یو اے ای کی مداخلت کا کھل کر کہا ہے
استعماری قوتیں "نیو کالونی ازم" کے ذریعے اپنے ایجنٹوں کو مسلمان ممالک پہ مسلط کئے ہوئے ہیں
فی زمانہ امت مسلمہ ہونے کا حق غ ز ہ ، جمہوری اسلامی ایران ، یمن اور ح زب کے مجاہدین ادا کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خانہ جنگی سوڈان میں ہے سوڈان یو اے ای
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔