ایران جوہری ہتھیاروں کے پیچھے نہیں، عراقی صدر
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
اپنے ایک انٹرویو میں عبداللطیف رشید کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی فوجوں کی موجودگی یا انخلاء کا معاملہ صرف بغداد اور واشنگٹن کے درمیان معاہدے سے طے ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ عراق کے صدر عبداللطیف رشید نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اسرائیل یا امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر دوبارہ حملے دوبارہ نہیں ہوں گے۔ ایران بارها زور دے چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ عبداللطیف رشید نے ان خیالات کا اظہار فرانس24 کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے علاقائی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے تباہ شدہ حالات، بشمول بچوں، شہریوں کا قتل اور خوراک و ادویات کی قلت ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن اور استحکام تک پہنچنے کا صحیح راستہ فوری جنگ بندی ہے۔ انہوں نے داخلی مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں امریکی فوجوں کی موجودگی یا انخلاء کا معاملہ صرف بغداد اور واشنگٹن کے درمیان معاہدے سے طے ہو گا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب ہم اس مقام پر ہیں جہاں عراق میں غیر ملکی فوجوں کے طویل عرصے تک موجود رہنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے داعش کی شکست کو فیصلہ کن قرار دیا اور سرحدوں پر مکمل کنٹرول پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شام کی سرحد پر واقع الھول کیمپ کا موجود رہنا عراق، شام اور حتیٰ ترکیہ کے لئے بھی سنگین خطرہ ہے۔ انٹرویو میں عبداللطیف رشید نے الحشد الشعبی کے کردار کی جانب اشارہ بھی کیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ الحشد الشعبی دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے عراقی سیکیورٹی فورسز کا حصہ ہے۔ بغداد اور اربیل کے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے تیل کی برآمدات پر حتمی معاہدے کی اطلاعات دیں۔ انہوں نے اس امر کی یقین دہانی کروائی کہ عراق کے اگلے انتخابات آزاد، شفاف اور بین الاقوامی اداروں کی نگرانی میں منعقد ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عبداللطیف رشید انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔