27ویں ترمیم وفاق کیلئے خطرہ ، موجودہ حکومت 16 سیٹوں پر بنی ہے،آئینی ترمیم مینڈیٹ والوں کا حق ہے ،پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
پورے ملک میں ہلچل ہے کہ وفاق صوبوں پر حملہ آور ہو رہا ہے، ترمیم کا حق ان اراکین اسمبلی کو حاصل ہے جو مینڈیٹ لے کر آئے ہیں ، محمود اچکزئی ہمارے اپوزیشن لیڈر ہیں،بیرسٹر گوہر
صوبے انتظار کر رہے ہیں 11واں این ایف سی ایوارڈ کب آئے گا،وزیراعلیٰ کے پی کی عمران خان سے ملاقات کیلئے قومی اسمبلی میں قرارداد لانے کا فیصلہ،قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کیچیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت کو خبردارکرتے ہوئے کہا ہے کہ 27ویں ترمیم وفاق کے لیے خطرہ ہے اور ترمیم کا حق صرف ان اراکین اسمبلی کو حاصل ہے جو مینڈیٹ لے کر آئے ہیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہرعلی خان نے کہا کہ پورے ملک میں ہلچل ہے کہ وفاق صوبوں پر حملہ آور ہو رہا ہے، موجودہ حکومت نے 16 نشستوں کے ساتھ حکومت سنبھالی تھی۔انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم ایک سنجیدہ معاملہ ہے، بھارت کے آئین میں اب تک 106 ترامیم ہوئی ہیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قوم کی ضرورت کے مطابق ترمیم ہوتی ہے، 18 ویں ترمیم متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی، جس پر لوگوں نے خوشیاں منائیں اور 26 ویں ترمیم کی 4 شقوں پر ہمیں شدید اعتراض ہے۔حکومت کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ اب آپ وفاق کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، 27 ویں ترمیم وفاق کے لیے خطرہ ہے، صوبے انتظار کر رہے ہیں 11واں این ایف سی ایوارڈ کب آئے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم احتجاج کے طور پر اپنی آواز ایوان میں اٹھائیں گے، قوم بہت تقسیم ہوچکی ہے، خسارہ ٹاپ پر ہے، حکومت ہوش کے ناخن لے۔چیٔرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ آئین میں ترمیم اس ایوان کا حق ہے مگر ان لوگوں کا حق ہے جو مینڈیٹ لے کر آئے ہیں، آپ کے پاس تو مینڈیٹ ہی نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی آئیں اپنی سیٹ سنبھال لیں، ہم نے 74 اراکین اسمبلی کے ساتھ درخواست دی ہے، ان کی ایوان اور جمہوریت کے لیے بڑی قربانیاں ہیں لہٰذا ان کا نوٹی فیکیشن کریں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپوزیشن لیڈر کے لے درخواست دی ہے لہٰذا محمود خان اچکزئی ہمارے اپوزیشن لیڈر ہیں۔بیرسٹر گوہرنے کہا کہ رائٹ آف اپیل دیا جائے، یہ لوگوں کا حق ہے کہ 45 دنوں میں اپیل کا حق دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی حکومت نے خیبرپختونخواکو گندم کی ترسیل پر پابندی لگائی ہے، خیبرپختونخوا میں آٹے کی قیمت بڑھ رہی ہے جبکہ وزیراعظم نے 20 مہینوں میں 34 غیرملکی دورے کیے ہیں۔چیٔرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی، ہم اسپیکر سے کہتے ہیں رولنگ دے دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ پی ٹی ا ئی کا حق ہے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔