ایشیا کپ :تھرڈ امپائر بھی بھارت کے سہولت کار نکلے،فخر زمان کا آئوٹ ٹاپ ٹرینڈ پر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
پاک بھارت میچ کے دوران تھرڈ امپائر بھی بھارت کے سہولت کار نکلے۔قومی ٹیم کے بیٹر فخر زمان ناٹ آئوٹ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ایشیا کپ میں میچ ریفری کے بعد تھرڈ امپائر کی بھی بھارت کی سہولت کاری سامنے آ گئی۔ تھرڈ امپائر کے تھرڈ کلاس فیصلے پر شائقین برہم ہو گئے۔ اور سوشل میڈیا پر تھرڈ امپائر کے متنازعہ فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا پر شائقین کا کہنا ہے شک کا فیصلہ ہمیشہ بلے باز کو دیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں تو الٹ ہی دیکھا گیا۔فاسٹ بالر محمد عامر نے اپنے پیغام میں لکھا کہ فخر زمان کا آئوٹ نہیں تھا۔ جبکہ سابق کپتان وقار یونس اور وسیم اکرم نے بھی تھرڈ امپائر کے فیصلے کو غلط قرار دے دیا۔ محمد حفیظ نے بھی فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔بھارت میں بھی تھرڈ امپائر کے متنازعہ فیصلے پر آوازیں اٹھنے لگیں۔ بھارتی صحافی راہول راوت نے کہا کہ فخر زمان ناٹ آئوٹ لگ رہے تھے۔ کیونکہ گیند گلوز میں آنے سے پہلے زمین کو لگ گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ گیند فخر زمان کا بلا لگ کر زمین کو چھو کر وکٹ کیپر کے ہاتھ میں گئی۔ اور تھرڈ امپائر نے غلط آئوٹ دے دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: تھرڈ امپائر کے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :