رائیونڈ تبلیغی اجتماع کیلئے لاہور پولیس کے بھرپورسیکورٹی انتظامات
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور( آئی این پی ) لاہور پولیس نے رائیونڈ تبلیغی اجتماع کے موقع پر سیکورٹی کے بھرپور انتظامات کئے ہیں۔ اس سلسلے میں شرکا کے جان و مال کے تحفظ اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع سیکورٹی پلان مرتب کیا گیا ہے۔ترجمان نے بتا یا کہ تبلیغی اجتماع کی سیکورٹی کے لیے 3 ایس پیز، 10 ڈی ایس پیز، 41 ایس ایچ اوز، 252 اَپر سبارڈینیٹس سمیت مجموعی طور پر 3800 سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ٹریفک کی بلا تعطل روانی کے لیے 1000 سے زائد ٹریفک پولیس افسران و اہلکار ڈیوٹی پر مامور ہیں۔شرکاء کی سہولت کے لیے پنڈال کے 14 مختلف مقامات پر پولیس کیمپس قائم کیے گئے ہیں جبکہ 3 داخلی راستے، 20 ناکے اور 40 واک تھرو گیٹس نصب کئے گئے ہیں۔ پنڈال اور اس کے اطراف کے علاقوں میں 128 سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ سیکورٹی اقدامات کی موثر نگرانی کے لیے اے سی رائیونڈ کے دفتر میں خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق تبلیغی اجتماع کا پہلا سیشن 6 سے 9 نومبر تک جاری رہے گا۔سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ رائیونڈ تبلیغی اجتماع کے شرکاء کی حفاظت کے لیے بھر پور سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ شرکاء کی بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کو یقینی بنایا جائے جبکہ سپروائزری افسران اجتماع کے منتظمین سے مسلسل رابطے میں رہیں۔بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے کیمروں کی مدد سے اجتماع کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے افسران و جوانوں کو ہدایت کی کہ وہ مکمل الرٹ رہیں، مشکوک افراد اور سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری کارروائی کریں۔سی سی پی او لاہور نے شرکاء سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشکوک شے یا سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔ انہوں نے کہا کہ پارکنگ اور ٹریفک کی منظم روانی کے لیے ٹریفک پولیس کا خصوصی عملہ خدمات انجام دے رہا ہے۔بلال صدیق کمیانہ نے مزید کہا کہ سیکورٹی پوائنٹس پر تعینات جوان شرکاء سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور شرکاء بھی چیکنگ پوائنٹس پر پولیس اہلکاروں سے تعاون کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تبلیغی اجتماع گئے ہیں کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.