Islam Times:
2026-07-24@03:22:50 GMT

ہم ایران کیساتھ "نیا معاہدہ" کرنے کو تیار ہیں، جرمنی کا دعوی

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

ہم ایران کیساتھ 'نیا معاہدہ' کرنے کو تیار ہیں، جرمنی کا دعوی

جرمن وزیر خارجہ نے دعوی کیا ہے کہ برلن، جوہری معاملے پر تہران کیساتھ نئے معاہدے تک پہنچنے کو تیار ہے! اسلام ٹائمز۔ جرمن وزیر خارجہ جوہانس وڈفل نے دعوی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جرمنی، ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مسائل کے حل کے لئے مذاکرات و سفارتکاری کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ جوہانس وڈفل نے کہا کہ جرمنی کا موقف واضح ہے؛ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے! جرمن وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم سفارتکاری کے راستے پر یقین رکھتے ہیں اور ایران کے ساتھ ایک نئے معاہدے تک پہنچنے کے لئے بات چیت کو تیار ہیں۔

واضح رہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب نیو یارک میں موجود ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آج رات ہی ٹیلیویژن انٹرویو میں کہا تھا کہ تین یورپی ممالک جرمنی، برطانیہ و فرانس، حالیہ دنوں میں مذاکرات کے دوران نام نہاد اسنیپ بیک میکانزم کو آگے بڑھانے کے ذریعے، ایران کو بلیک میل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ سید عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ یہ بات ہمارے لئے واضح تھی جو نیویارک میں روز روشن کی طرح مزید واضح ہو گئی کہ یورپی ٹرائیکا اور امریکہ، ایران سے مراعات حاصل کرنے کے لئے بلیک میلنگ کا ارادہ رکھتے تھے نیز وہ یہ توقع بھی رکھتے تھے کہ ایران اپنا تمام جوہری مواد ان کے حوالے کر دے گا جس کے بدلے اسنیپ بیک عمل کو صرف اور صرف 3 یا 6 ماہ کے لئے "موخر" کیا جائے گا!

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے لئے

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان