ہم ایران کیساتھ "نیا معاہدہ" کرنے کو تیار ہیں، جرمنی کا دعوی
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
جرمن وزیر خارجہ نے دعوی کیا ہے کہ برلن، جوہری معاملے پر تہران کیساتھ نئے معاہدے تک پہنچنے کو تیار ہے! اسلام ٹائمز۔ جرمن وزیر خارجہ جوہانس وڈفل نے دعوی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جرمنی، ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مسائل کے حل کے لئے مذاکرات و سفارتکاری کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ جوہانس وڈفل نے کہا کہ جرمنی کا موقف واضح ہے؛ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے! جرمن وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم سفارتکاری کے راستے پر یقین رکھتے ہیں اور ایران کے ساتھ ایک نئے معاہدے تک پہنچنے کے لئے بات چیت کو تیار ہیں۔
واضح رہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب نیو یارک میں موجود ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آج رات ہی ٹیلیویژن انٹرویو میں کہا تھا کہ تین یورپی ممالک جرمنی، برطانیہ و فرانس، حالیہ دنوں میں مذاکرات کے دوران نام نہاد اسنیپ بیک میکانزم کو آگے بڑھانے کے ذریعے، ایران کو بلیک میل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ سید عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ یہ بات ہمارے لئے واضح تھی جو نیویارک میں روز روشن کی طرح مزید واضح ہو گئی کہ یورپی ٹرائیکا اور امریکہ، ایران سے مراعات حاصل کرنے کے لئے بلیک میلنگ کا ارادہ رکھتے تھے نیز وہ یہ توقع بھی رکھتے تھے کہ ایران اپنا تمام جوہری مواد ان کے حوالے کر دے گا جس کے بدلے اسنیپ بیک عمل کو صرف اور صرف 3 یا 6 ماہ کے لئے "موخر" کیا جائے گا!
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے لئے
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘