پاکستانیوں سمیت ایل پی جی ٹینکر کا پورا عملہ خیریت سے ہے: دفترِ خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
—فائل فوٹو
دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں سمیت ایل پی جی ٹینکر کا پورا عملہ خیریت سے ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کا بیان میں کہنا ہے کہ ایل پی جی ٹینکر یمنی پانیوں سے باہر نکل رہا ہے۔ 17 ستمبر کو یمن کے ساحل پر ایل پی جی ٹینکر میں آگ لگ گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیلی ڈرون حملے کے شکار ٹینکر اور 24 پاکستانیوں سمیت عملے کو رہا کر دیا گیا: محسن نقوی یمن میں حملے کا نشانہ بنے بحری جہاز میں کپتان سمیت عملے کے 24 پاکستانی ارکان سوارخارجہ نے کہا ہے کہ ٹینکر میں 24 پاکستانیوں سمیت کثیر ملکی عملہ سوار تھا، واقعے کی اطلاع ملتے ہی یمن میں حکام سے رابطے کیے گئے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سفارتی مشن نے پاکستانی عملے کے اہلِ خانہ سے بھی رابطہ رکھا۔
واضح رہے کہ یمنی پورٹ پر جہاز پر 10 دن پہلے اسرائیلی ڈرون حملہ ہوا تھا، جہاز پر ایل پی جی موجود تھی جو یمنی پورٹ پر اتاری جانی تھی۔
مذکورہ بحری جہاز ایرانی بندرگاہ بندر عباس سے یمن جا رہا تھا کہ اسرائیلی حملے کا نشانہ بن گیا، بحری جہاز کے کپتان سمیت عملے کے 24 ارکان پاکستانی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایل پی جی ٹینکر
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔