سپریم کورٹ کے آئینی بینچ  میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا ہے کہ آرٹیکل 10 اے فئیر ٹرائل کے بارے میں ہے، ٹیکس سے اس کا کیا تعلق ہے؟۔

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ  میں سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی۔

درخواست گزاران کے وکیل احمد سکھیرا نے دلائل دیے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ پیٹرول کی قیمت 150 سے 200 روپے ہو جائے تو کیا ونڈ فال پروفٹ ہوگا،
چینی کی قیمت 160 سے 170 ہو جائے تو کیا پھر بھی ونڈ فال پروفٹ ہو گا۔

احمد سکھیرا  نے کہا کہ "سادگی بھی قیامت کی ادا ہوتی ہے"، جسٹس محمد علی مظہر  نے ریمارکس دیے کہ کہیں یہ آپکی سادگی تو نہیں ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل  نے کہا کہ آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ کس پر کتنا ٹیکس لگنا چاہیے، احمد سکھیرا نے کہا کہ ان کے پالیسی بیان میں بھی تضاد ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ مطلب یہ کہ آپ صرف تناسب سے ناخوش ہیں۔

احمد سکھیرا نے دلیل دی کہ ونڈ فال پروفٹ پالیسی کی وجہ سے ہو رہا ہے، اگر تین چار لوگ فائدے میں ہیں اکثریت نقصان اٹھا رہی ہے تو ٹیکس کیسے لگے گا، انکم ٹیکس میں بنیادی حقوق شامل نہیں اس حوالے سے میرا انحصار آرٹیکل 10 اے پر ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرٹیکل 10 اے فئیر ٹرائل کے بارے میں ہے ٹیکس سے اس کا کیا تعلق ہے، احمد سکھیرا نے مؤقف اپنایا کہ ٹیکس میں عوامی سماعت کا حق ہونا چاہیے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ کچھ چیزیں ہیں جو میونسپل ٹیکس میں ہیں، انکم ٹیکس کے حوالے سے قانون میں عوامی سماعت کی کوئی شق نہیں ہے۔

احمد سکھیرا  نے کہا کہ فئیر ٹرائل ایک علیحدہ حق ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل  نے استفسار کیا کہ ٹیکس نافذ کرنے کا طریقہ کار کیا ہے، اس کیس میں ڈیو پراسس کی خلاف ورزی کہاں ہے۔

احمد سکھیرا نے مؤقف اپنایا کہ یہ انٹری 47 کی بھی خلاف ورزی ہے، میری اتنی عمر ہو گئی ہے میرے بچے بیرسٹر ہیں یہاں بیٹھے ہیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل  نے استفسار کیا کہ آپ کی عمر کیا ہے، احمد سکھیرا  نے جواب دیا کہ میری عمر 57 سال ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل  نے کہا کہ 57 سال کو آپ بوڑھا سمجھتے ہیں، جسٹس جمال خان مندوخیل کے جواب پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

احمد سکھیرا نے کہا کہ ایک دن یہاں ہم میں سے کوئی نہیں ہوگا لیکن یہ عدالتی فیصلہ موجود ہوگا۔

کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جسٹس جمال خان مندوخیل جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا احمد سکھیرا نے کہا کہ ٹیکس سے

پڑھیں:

کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں

فیروزوالہ (نامہ نگار) شرقپور خورد کوٹ عبدالمالک میں ایک شخص وقاص احمد نے بیوٹی پارلر پر جا کر سابقہ بیوی مسرت بی بی اور جواں سال بیٹی ایمان فاطمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد تیزاب پھینک دیا جس سے مسرت بی بی جسم پر تیزاب پڑنے سے بری طرح جھلس گئی جبکہ ایمان فاطمہ معمولی زخمی ہوئی۔ دریں اثناء ایس ایچ او کوٹ عبدالمالک نے بتایا ہے کہ ملزم وقاص احمد نشہ کا عادی ہے۔ وقوعہ کے وقت وقاص احمد اپنی بیٹی ایمان فاطمہ کو ملنے کی خاطر سابقہ بیوی مسرت بی بی کے بیوٹی پارلر پر آیا جہاں مسرت بی بی نے بیٹی کو ملانے سے انکار کر دیا۔ ملزم شیخوپورہ کے قریب قصبہ بھکھی میں رہ رہا ہے جس کو گرفتار کرنے کی خاطر اس کے تمام ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم